پنجاب میں صنعتی مزدوروں کے لیے موبائل ہیلتھ پروگرام شروع، چھیالیس لاکھ مزدوروں اور ان کے گھرانوں کو دہلیز پر علاج ملے گا، مارچ تک مزید بارہ اضلاع شامل ہوں گے

لاہور: پنجاب میں صنعتی مزدور کے لیے علاج اب اسپتال کی قطار سے نکل کر اس کی فیکٹری اور اس کے گھر کی دہلیز تک آئے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام کا افتتاح کر دیا ہے، جس کے تحت چھیالیس لاکھ سے زائد رجسٹرڈ مزدوروں کو کام کی جگہ پر اور ان کے گھرانوں کو گھر کے قریب طبی سہولتیں ملیں گی۔ آغاز لاہور، قصور اور شیخوپورہ سے ہو رہا ہے۔
بیڑے میں کیا کچھ شامل ہے
اس پروگرام میں موبائل اسپتال، موبائل کلینک، دانتوں کا موبائل اسپتال اور دل کی جانچ کے لیے خصوصی موبائل یونٹ شامل ہیں، جبکہ موٹر سائیکلوں اور اسکوٹروں پر سوار ٹیمیں طبی کٹس، فرسٹ ایڈ اور ضروری ادویات لے کر طے شدہ راستوں پر گھریلوں تک پہنچیں گی۔ موبائل اسپتالوں میں ڈاکٹر، خواتین ڈاکٹر، نرسیں، لیبارٹری اور ایکسرے کی سہولت موجود ہوگی اور ٹیلی میڈیسن بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ نے موبائل اسپتال اور ڈینٹل یونٹ کا معائنہ کیا، طبی عملے سے ملاقات کی، اور بعد میں نواز شریف سوشل سیکیورٹی اسپتال کے آؤٹ ڈور اور رحمت للعالمین کارڈیک سینٹر میں مریضوں کی عیادت بھی کی۔
دل کی بیماری کی خاموش اسکریننگ
پروگرام کا ایک بڑا حصہ ریمیٹک دل کی بیماری کی بروقت شناخت ہے۔ اسکریننگ ٹیمیں لاہور، شیخوپورہ اور قصور میں انتیس ہزار آٹھ سو پینتالیس فیکٹریوں اور صنعتی اداروں تک جائیں گی، اور صوبے بھر کے ورکرز ویلفیئر اسکولوں میں پڑھنے والے چون ہزار بچوں کے دلوں کی جانچ بھی ہوگی۔ تمام یونٹس پیسی ہیڈ آفس کے ڈیجیٹل حب سے جڑے ہوں گے، جہاں سے ان کی نقل و حرکت اور کارکردگی کی براہ راست نگرانی ہوگی۔
حکام کے مطابق صوبے کے چوبیس سوشل سیکیورٹی اسپتال ایک کروڑ سے زائد مزدوروں اور ان کے گھرانوں کو علاج اور ادویات دے رہے ہیں اور پیسی کے ڈھائی سو طبی مراکز بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔ منصوبہ ہے کہ مارچ دو ہزار ستائیس تک یہ پروگرام گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، فیصل آباد، سرگودھا، ساہیوال، ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، رحیم یار خان اور راولپنڈی تک پھیل جائے۔ کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہوگا کہ یونٹ شیڈول کے مطابق چلتے رہیں، کیونکہ مزدور کے لیے سہولت وہی ہے جو ہر ہفتے، ہر موسم میں اس کے دروازے تک پہنچے۔



