قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کر دی، قرارداد اکثریت سے منظور، اپوزیشن کا واک آؤٹ، گورنر راج کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب

اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کو اب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی منظوری مل گئی ہے۔ قومی اسمبلی کے چند گھنٹے بعد سینیٹ نے بھی بدھ کی شام قرارداد اکثریت سے منظور کر لی۔ چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں قرارداد وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کی، وقفہ سوالات ملتوی کرنے کی تحریک بھی منظور ہوئی، اور پی ٹی آئی کے سینیٹرز احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ جے یو آئی نے بھی قرارداد کی مخالفت کی۔
معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ صدر مملکت نے گورنر راج کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل 15 اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔ ایمرجنسی کا اعلان آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت 11 اکتوبر کو جاری ہوا تھا اور اسے دس دن کے اندر دونوں ایوانوں سے منظوری درکار تھی؛ وہ مرحلہ مکمل ہو گیا۔ گورنر راج آرٹیکل 234 کے تحت آتا ہے، مشترکہ اجلاس سے توسیع نہ ملی تو دو ماہ میں ختم ہو جائے گا اور کسی صورت چھ ماہ سے آگے نہیں جا سکتا۔
ایوان میں بحث کیسی رہی
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے طریقہ کار پر اٹھنے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئینی ضرورت کے تحت پیش ہونے والی قرارداد پر عام قراردادوں والے قواعد اور سات دن کے نوٹس کی شرط لاگو نہیں ہوتی۔ اعداد و شمار بھی انہی کے پاس تھے: صوبے میں 2021 سے 2024 کے درمیان دہشتگردی کے 2,911 واقعات ہوئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک یہ تعداد 3,787 تک پہنچ گئی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ چودہ ماہ میں 3,900 افراد شہید ہوئے۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے فیصلے واپس لینے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگلا گورنر راج پانی اور معدنیات کے تنازع پر سندھ میں لگ سکتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر درمیانی راستے اور مذاکرات کی بات کی۔
ایک اور پیش رفت میں اسپیکر ایاز صادق نے پنجاب پولیس کی تحویل میں موجود ارکان قومی اسمبلی ثناء اللہ خان مستی خیل اور داور خان کنڈی کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیے ہیں، تاکہ وہ آئندہ اجلاسوں میں شریک ہو سکیں۔ ادھر پشاور میں صورتحال معمول کی طرف لوٹ رہی ہے؛ سڑکوں سے کنٹینر ہٹا دیے گئے ہیں، تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں اور بی آر ٹی سروس بحال ہو گئی ہے، البتہ ریڈ زون سمیت حساس علاقوں میں سکیورٹی سخت ہے۔



