وفاقی آئینی عدالت نے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیل مسترد کر دی، کہا اصل اپیل کا جلد فیصلہ ہی درست راستہ ہے، ہائی کورٹ کو غیر ضروری التواء روکنے کی توقع بھی ظاہر کر دی

اسلام آباد: بشریٰ بی بی کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں فی الحال کوئی ریلیف نہ مل سکا۔ وفاقی آئینی عدالت نے بدھ کے روز ان کی سزا معطلی کی اپیل مسترد کر دی اور موقف اختیار کیا کہ جب اصل اپیل پہلے ہی سماعت کی منتظر ہو تو متوازی کارروائی کے بجائے اسی اپیل کا جلد فیصلہ زیادہ مناسب راستہ ہے۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا، بینچ میں جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔ تین صفحات پر مشتمل تحریری حکم چیف جسٹس نے تحریر کیا ہے۔ بشریٰ بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 30 اپریل کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں ان کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔
اکسٹھ دن کی تاخیر معاف
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اپیل مقررہ مدت کے اکسٹھ دن بعد دائر ہوئی تھی۔ عدالت نے اس تاخیر کو اس بنیاد پر معاف کر دیا کہ درخواست گزار اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور یہی ان کی وضاحت تھی۔ تاہم اصل معاملے پر عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ وسیع ریکارڈ اور تفصیلی دلائل کی ضرورت، خود بخود، ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کی وجہ نہیں بن جاتی۔
عدالت نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اصل اپیل کی سماعت میں دونوں فریقوں کو بھرپور موقع دے گی اور غیر ضروری التواء کی حوصلہ شکنی کرے گی۔ بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب گزشتہ تیرہ ماہ کے دوران بار بار التواء مانگتا رہا ہے اور عدالتوں نے خواتین کے معاملے میں روایتی طور پر نرمی برتی ہے، اس لیے سزا معطلی کی قانونی بنیاد موجود ہے۔ سلمان اکرم راجہ بھی عدالت میں موجود تھے۔
پس منظر کیا ہے؟
جنوری 2025 میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اسی مقدمے میں بشریٰ بی بی کو سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، جب کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو چودہ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہوا تھا۔ یہ مقدمہ، جو القادر ٹرسٹ کیس کے نام سے جانا جاتا ہے، برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے بھیجی گئی اس رقم سے متعلق ہے جو اس وقت کے وزیراعظم کی منظوری سے ایک خفیہ تصفیے میں ایڈجسٹ کی گئی تھی۔ دونوں اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور اب ان کی نظریں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت اصل اپیل پر لگی ہیں۔



