جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی غزہ میں لاشیں گنی جا رہی ہیں، جنگ بندی کے بعد ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بڑھ گئی

غزہ میں جنگ بندی کو ایک سال ہو گیا ہے، مگر وہاں موت کا حساب اب بھی روز لکھا جا رہا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد سے اب تک 1,501 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور 5,323 زخمی ہوئے ہیں۔ صرف پچھلے چوبیس گھنٹوں میں مزید تین افراد کی لاشیں اسپتالوں پہنچیں اور سترہ زخمی لائے گئے، جن میں سے دو زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے۔ کاغذ پر جنگ بند ہے، زمین پر لوگ اب بھی مر رہے ہیں۔
ایک معاہدہ جو آدھا ادھورا رہا
جنگ بندی سے امید یہ بندھی تھی کہ بمباری رکے گی، امداد اندر جائے گی اور ملبے تلے دبے لوگ نکالے جا سکیں گے۔ ایک سال بعد صورتحال یہ ہے کہ اسی عرصے میں ملبے سے 838 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، یعنی سینکڑوں خاندانوں کو اپنے پیاروں کی تدفین کا موقع بھی جنگ بندی کے بعد ملا۔ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں مجموعی ہلاکتیں 74,392 اور زخمیوں کی تعداد 175,440 ہو چکی ہے۔ یہ صرف اعداد نہیں، ہر عدد کے پیچھے ایک گھر ہے جو اب وہاں نہیں رہا۔
رفح بند، مریض پھنسے ہوئے
سب سے تکلیف دہ پہلو طبی انخلا کا ہے۔ غزہ کے حکام کے مطابق مصر سے ملنے والی رفح گزرگاہ مسلسل دوسرے ہفتے بھی بیماروں اور زخمیوں کے انخلا کے لیے نہیں کھلی۔ جن مریضوں کا علاج غزہ کے تباہ شدہ اسپتالوں میں ممکن نہیں، ان کے لیے یہ گزرگاہ ہی واحد راستہ ہے۔ گزرگاہ بند رہنے کا مطلب ہے کہ قابل علاج زخمی بھی انتظار کی فہرست میں لگے رہتے ہیں، اور انتظار وہاں اکثر موت سے پہلے ختم نہیں ہوتا۔
تجزیہ: جنگ بندی کیوں ناکام ہو رہی ہے
اصل مسئلہ نگرانی کا ہے۔ معاہدے میں نہ کوئی مؤثر بین الاقوامی نگران نظام بنا، نہ خلاف ورزی کی کوئی قیمت مقرر ہوئی۔ نتیجہ یہ کہ فائرنگ اور فضائی کارروائیاں وقفے وقفے سے جاری ہیں اور ہر واقعہ پچھلے واقعے کی طرح بیانات میں گم ہو جاتا ہے۔ تعمیر نو بھی کاغذوں سے آگے نہیں بڑھی، اس لیے لاکھوں بے گھر لوگ اسی خیمے میں دوسری سردی گزارنے جا رہے ہیں جہاں پہلی گزاری تھی۔ جب تک جنگ بندی کو نگرانی اور جوابدہی سے نہیں جوڑا جاتا، غزہ میں ہر نیا دن پرانے زخم پر ایک اور عدد کا اضافہ کرتا رہے گا۔



