جمعرات, 15 اکتوبر 2026
جمعرات, 15 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
گھر پر چکن کڑاہی بنانے کا اصل طریقہ، بغیر پیاز کے ٹماٹر ادرک کی چٹپٹی گریوی والی• کوریائی سائنس فکشن تھرلر فلم ’ہوپ‘ 23 اکتوبر کو پاکستان کے سینماؤں میں ریلیز ہوگی، اسکوئڈ گیم کی اداکارہ بھی کاسٹ میں شامل• گھر پر ہوٹل جیسی بیف نہاری بنانے کا آسان طریقہ، دھیمی آنچ پر پکی ہوئی نرم بوٹی اور گاڑھی گریوی• جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی غزہ میں لاشیں گنی جا رہی ہیں، جنگ بندی کے بعد ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بڑھ گئی• مکہ مکرمہ میں موسلا دھار بارش، عمرہ زائرین بارش میں بھی خانہ کعبہ کا طواف کرتے رہے، محکمہ موسمیات نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا• پشاور اسکول سانحہ: جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہو گئی، مالک کے بعد پرنسپل بھی زیر حراست، انکشاف ہوا کہ خستہ حال عمارت کا تکنیکی معائنہ کیے بغیر اسکول رجسٹر کر دیا گیا تھا• اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری، ممبئی میں احتجاج میں شرکت پر غیر ملکی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام• پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی، 32 طلبہ اور ایک استانی جاں بحق، تین بچے شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج•
مضامین

جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی غزہ میں لاشیں گنی جا رہی ہیں، جنگ بندی کے بعد ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بڑھ گئی

News Cuff

غزہ میں جنگ بندی کو ایک سال ہو گیا ہے، مگر وہاں موت کا حساب اب بھی روز لکھا جا رہا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد سے اب تک 1,501 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور 5,323 زخمی ہوئے ہیں۔ صرف پچھلے چوبیس گھنٹوں میں مزید تین افراد کی لاشیں اسپتالوں پہنچیں اور سترہ زخمی لائے گئے، جن میں سے دو زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے۔ کاغذ پر جنگ بند ہے، زمین پر لوگ اب بھی مر رہے ہیں۔

ایک معاہدہ جو آدھا ادھورا رہا

جنگ بندی سے امید یہ بندھی تھی کہ بمباری رکے گی، امداد اندر جائے گی اور ملبے تلے دبے لوگ نکالے جا سکیں گے۔ ایک سال بعد صورتحال یہ ہے کہ اسی عرصے میں ملبے سے 838 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، یعنی سینکڑوں خاندانوں کو اپنے پیاروں کی تدفین کا موقع بھی جنگ بندی کے بعد ملا۔ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں مجموعی ہلاکتیں 74,392 اور زخمیوں کی تعداد 175,440 ہو چکی ہے۔ یہ صرف اعداد نہیں، ہر عدد کے پیچھے ایک گھر ہے جو اب وہاں نہیں رہا۔

رفح بند، مریض پھنسے ہوئے

سب سے تکلیف دہ پہلو طبی انخلا کا ہے۔ غزہ کے حکام کے مطابق مصر سے ملنے والی رفح گزرگاہ مسلسل دوسرے ہفتے بھی بیماروں اور زخمیوں کے انخلا کے لیے نہیں کھلی۔ جن مریضوں کا علاج غزہ کے تباہ شدہ اسپتالوں میں ممکن نہیں، ان کے لیے یہ گزرگاہ ہی واحد راستہ ہے۔ گزرگاہ بند رہنے کا مطلب ہے کہ قابل علاج زخمی بھی انتظار کی فہرست میں لگے رہتے ہیں، اور انتظار وہاں اکثر موت سے پہلے ختم نہیں ہوتا۔

تجزیہ: جنگ بندی کیوں ناکام ہو رہی ہے

اصل مسئلہ نگرانی کا ہے۔ معاہدے میں نہ کوئی مؤثر بین الاقوامی نگران نظام بنا، نہ خلاف ورزی کی کوئی قیمت مقرر ہوئی۔ نتیجہ یہ کہ فائرنگ اور فضائی کارروائیاں وقفے وقفے سے جاری ہیں اور ہر واقعہ پچھلے واقعے کی طرح بیانات میں گم ہو جاتا ہے۔ تعمیر نو بھی کاغذوں سے آگے نہیں بڑھی، اس لیے لاکھوں بے گھر لوگ اسی خیمے میں دوسری سردی گزارنے جا رہے ہیں جہاں پہلی گزاری تھی۔ جب تک جنگ بندی کو نگرانی اور جوابدہی سے نہیں جوڑا جاتا، غزہ میں ہر نیا دن پرانے زخم پر ایک اور عدد کا اضافہ کرتا رہے گا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے