گھر پر ہوٹل جیسی بیف نہاری بنانے کا آسان طریقہ، دھیمی آنچ پر پکی ہوئی نرم بوٹی اور گاڑھی گریوی

نہاری کا نام آتے ہی ذہن میں کراچی اور لاہور کے پرانے بازاروں کی صبحیں آ جاتی ہیں۔ یہ پکوان اصل میں فجر کے بعد کھایا جاتا تھا، اسی لیے اس کا نام نہار سے نکلا۔ اچھی نہاری کی پہچان دو چیزوں سے ہوتی ہے: بوٹی اتنی نرم کہ چمچ سے ٹوٹ جائے، اور گریوی اتنی گاڑھی کہ چمچ پر تہہ جم جائے۔ راز مہنگے مصالحوں میں نہیں، وقت میں ہے۔ دھیمی آنچ اور صبر، بس یہی دو چیزیں درکار ہیں۔
اجزاء
ایک کلو بیف بونگ کا گوشت بڑے ٹکڑوں میں، آدھا کپ گھی، دو بڑے پیاز باریک کٹے ہوئے، دو کھانے کے چمچ ادرک لہسن کا پیسٹ، دو کھانے کے چمچ نہاری مصالحہ، ایک کھانے کا چمچ لال مرچ، ایک چائے کا چمچ ہلدی، حسب ذائقہ نمک، چھ سے سات کپ پانی یا یخنی، تین کھانے کے چمچ آٹا آدھا کپ پانی میں گھولا ہوا۔ سجاوٹ کے لیے باریک کٹی ادرک، ہری مرچیں، ہرا دھنیا اور لیموں کے قتلے۔
ترکیب
بڑی دیگچی میں گھی گرم کر کے پیاز سنہری کریں اور نکال کر رکھ دیں۔ اسی گھی میں ادرک لہسن بھونیں، خوشبو اٹھے تو گوشت ڈال کر تیز آنچ پر پانچ چھ منٹ بھونیں یہاں تک کہ رنگ بدل جائے۔ اب نہاری مصالحہ، مرچ، ہلدی اور نمک ملا کر دو منٹ مزید بھونیں، پھر پانی ڈال کر ابال آنے دیں۔ آنچ بالکل دھیمی کر کے ڈھکن لگا دیں اور چار سے پانچ گھنٹے پکنے دیں۔ گوشت کو چھیڑیں نہیں، بس درمیان میں ایک دو بار یخنی کا جائزہ لے لیں۔ جب بوٹی انگلی کے دباؤ سے ٹوٹنے لگے تو آٹے کا گھول آہستہ آہستہ چمچ چلاتے ہوئے ملائیں اور پندرہ منٹ پکائیں، گریوی خود گاڑھی ہوتی جائے گی۔ آخر میں تلی ہوئی پیاز کا تڑکا اوپر سے ڈالیں۔ چاہیں تو ایک ٹکڑا نلی الگ سے ابال کر شامل کر دیں، ذائقہ دوگنا ہو جاتا ہے۔
پیش کرنے کا طریقہ
نہاری ہمیشہ گرم پیالے میں نکالیں، اوپر ادرک کے باریک قتلے، ہری مرچ اور دھنیا چھڑکیں اور لیموں کا قتلہ ساتھ رکھیں۔ نان گرم ہو، تندور سے سیدھا آیا ہوا۔ ایک مشورہ گھروں میں آزمایا ہوا ہے: نہاری اگلے دن اور بھی مزے کی ہو جاتی ہے، اس لیے ایک وقت کی زیادہ بنا لینا نقصان نہیں۔ سردیوں کی شاموں میں یہ ایک پکوان پورے دسترخوان کی جان بن جاتا ہے۔



