ٹیکسٹائل برآمدات میں 5.26 فیصد اضافہ، پہلی سہ ماہی میں 5 ارب 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی برآمدات، تیار ملبوسات سب سے آگے

ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معمولی مگر مثبت رفتار دکھائی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر 2026 میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 5.26 فیصد اضافے کے ساتھ 5 ارب 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہیں، جبکہ پچھلے سال اسی مدت میں یہ 4 ارب 77 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھیں۔
تیار ملبوسات نے بازی مار لی
اس سہ ماہی کا اصل کارنامہ تیار ملبوسات کا ہے، جن کی برآمدات مالیت میں 15.69 فیصد بڑھ کر 1 ارب 22 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور مقدار میں 17.38 فیصد بڑھ گئیں۔ سوتی دھاگے کی برآمدات 24.47 فیصد اضافے کے ساتھ 22 کروڑ 71 لاکھ ڈالر، تولیوں کی 10 فیصد اضافے کے ساتھ 29 کروڑ 16 لاکھ ڈالر اور نٹ ویئر کی 4.14 فیصد اضافے کے ساتھ 1 ارب 48 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہیں۔ دوسری طرف بیڈ ویئر معمولی کمی کا شکار رہا اور سوتی کپڑے کی برآمدات 5.34 فیصد گھٹ کر 42 کروڑ 53 لاکھ ڈالر رہ گئیں۔
برآمد کنندگان مطمئن نہیں
اعداد و شمار میں اضافہ ضرور ہے، مگر صنعت سے وابستہ لوگ اسے کامیابی ماننے کو تیار نہیں۔ ان کے مطابق مہنگی توانائی اور دیگر بلند پیداواری لاگت نے پاکستانی مصنوعات کی مسابقت کمزور کر دی ہے، اور بیرونی جھٹکوں سے ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔ برآمد کنندگان نے خبردار کیا ہے کہ حکومتی سطح پر اصلاحی اقدامات نہ ہوئے تو دوسری سہ ماہی میں رفتار مزید سست پڑ سکتی ہے۔ اکتوبر 2025 سے افغانستان کے ساتھ تجارت کی معطلی اور خطے کی جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ، خصوصاً متحدہ عرب امارات، کو برآمدات میں کمی کو اس سست روی کی بڑی وجوہات میں گنا جا رہا ہے۔
تیل کی درآمدی لاگت بھی بڑھ گئی
اعداد و شمار کے مطابق اسی سہ ماہی میں تیل کی درآمدات کا بل 6.50 فیصد بڑھ کر 4 ارب 2 کروڑ ڈالر ہو گیا۔ خام تیل کی مالیت میں 23.10 فیصد اضافہ ہوا، حالانکہ مقدار میں 6.87 فیصد کمی آئی — یعنی زیادہ رقم مقدار کی وجہ سے نہیں، عالمی قیمتوں کی وجہ سے ادا کرنی پڑی۔



