پاکستان نے سلامتی کونسل میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کر دی، حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کی کھل کر مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔ نیویارک میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہونے والے کھلے مباحثے میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے جمعرات کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے حملے سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
سعودی عرب کے دفاع کے حق کی مکمل حمایت
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ غیر متزلزل طور پر کھڑا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اس کے حق دفاع کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کی بگڑتی ہوئی صورتحال پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی ان کوششوں کی بھی حمایت کی جن کا مقصد یمن میں بات چیت دوبارہ شروع کر کے جامع اور دیرپا امن کی راہ نکالنا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان کے مطابق یکم اکتوبر سے اب تک مملکت کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں 19 افراد جاں بحق اور 364 زخمی ہو چکے ہیں۔
مغربی کنارے میں آباد کاروں کا تشدد بھی روکا جائے
خطاب میں فلسطین کا معاملہ بھی پوری قوت سے اٹھایا گیا۔ سفیر جدون نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں آباد کاری کا پھیلاؤ، خاص طور پر ای ون منصوبہ، فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ آباد کاروں کا تشدد، مکانات کی مسماری، زمینوں پر قبضہ اور جبری بے دخلی بند ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کا احتساب ضروری ہے۔ ان کے بقول دو ریاستی حل کی عالمی حمایت تب ہی معنٰی رکھتی ہے جب فلسطینی ریاست کی علاقائی سالمیت بچانے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جائیں۔ پاکستان نے غزہ جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ بھی دہرایا۔



