شاہراہ قراقرم پر لینڈ سلائیڈنگ سے دو نوجوان جاں بحق، گلگت بلتستان میں بارش اور برفباری سے بابوسر روڈ بند، خنجراب پر آمدورفت متاثر

گلگت بلتستان میں موسم نے ایک بار پھر پہاڑی سڑکوں کو خطرناک بنا دیا ہے۔ جمعرات کی صبح شاہراہ قراقرم پر ضلع نگر کے علاقے پسن کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کے دوران ایک بڑا پتھر چلتی گاڑی پر آ گرا، جس سے گاڑی میں سوار دو نوجوان شدید زخمی ہو گئے۔ دونوں کو قریبی سرکاری اسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت عارف حسین اور کاشف علی کے ناموں سے ہوئی ہے، دونوں نگر کے علاقے گلمت کے رہنے والے تھے۔
شاہراہ کھلی مگر سفر احتیاط کا متقاضی
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ اور جمعرات کو بارش کے باعث نگر سیکشن میں شاہراہ قراقرم کے کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، تاہم شاہراہ ٹریفک کے لیے کھلی ہے۔ گلگت بلتستان پولیس کے ترجمان نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ سفر شروع کرنے سے پہلے پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کر کے شاہراہ کی تازہ صورتحال معلوم کر لیں، کیونکہ بارش کا سلسلہ نگر میں بدستور جاری ہے اور مزید سلائیڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔
بابوسر روڈ بند، برف میں پھنسے سیاح بچا لیے گئے
ادھر بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری اور زیریں علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ بابوسر ٹاپ پر شدید برفباری کے باعث بابوسر پاس روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔ بدھ کی رات بابوسر ٹاپ کے قریب برف میں پھنسے مسافروں کو دیامر پولیس کے اہلکاروں نے بحفاظت نکال کر بابوسر ٹاپ تک پہنچایا۔ ٹورسٹ پولیس کے مطابق خنجراب ٹاپ پر برفباری سے شاہراہ قراقرم پر پھسلن بڑھ گئی ہے اور خنجراب پاس کے راستے پاکستان اور چین کے درمیان آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ استور، اسکردو، گھانچے، شگر، کھرمنگ، ہنزہ اور نگر کے بالائی علاقوں میں برفباری جاری رہی جبکہ کئی رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں، جس سے مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام نے سیاحوں اور مسافروں سے غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی ہے۔



