جمعہ, 16 اکتوبر 2026
جمعہ, 16 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
پیٹرول مزید 3 روپے 93 پیسے سستا، نئی قیمت 386 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر، ڈیزل کی قیمت برقرار• تجزیہ: رجسٹریشن مل گئی، عمارت کی جانچ نہیں ہوئی — پشاور کے اسکول سانحے نے پورا سیفٹی نظام بے نقاب کر دیا• گھر پر چکن یخنی پلاؤ بنانے کا طریقہ، گوشت کی یخنی میں پکے کھلے کھلے چاول اور ہلکی خوشبو والی مکمل ترکیب• ٹماٹر ایک ہفتے میں 23 فیصد سستا ہو گیا مگر آٹا، چنے اور مرغی پھر مہنگی، ہفتہ وار مہنگائی کی سالانہ شرح 11.38 فیصد پر آ گئی• تجزیہ: آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی صدارت پاکستان کے لیے اعزاز بھی ہے اور اصل امتحان بھی• پشاور سے عمرے پر جانے والے زائرین کو ویکسین کے بغیر سفر کی مہلت 25 اکتوبر تک مل گئی، اس کے بعد ویکسین لازمی ہوگی• گھر پر دم والی چکن بریانی بنانے کا آسان طریقہ، تہہ دار خوشبودار چاول اور نرم بوٹی کے ساتھ مکمل ترکیب• حسن رحیم نے اپنا گیت ‘بے وجہ’ 2027 کے گریمی ایوارڈز کے لیے جمع کرا دیا، گیت کو بہترین میوزک ویڈیو اور بہترین گلوبل میوزک پرفارمنس کی کیٹیگریز میں پیش کیا گیا ہے•
صحت

جعلی ادویات کے خاتمے کے لیے 9 اکتوبر کے بعد بنی ہر دوا پر ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریل نمبر لازمی، بغیر بارکوڈ درآمدی دوا ملک میں فروخت نہیں ہوگی

News Cuff

اسلام آباد میں ادویات کی خریداری کا طریقہ بدلنے جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے جمعرات کو ٹو ڈی بارکوڈ نظام کے ٹرائل کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی اور واضح کیا کہ 9 اکتوبر کے بعد تیار ہونے والی ہر دوا پر ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریل نمبر چھپا ہونا لازمی ہے۔ جو درآمدی دوا اس ضابطے پر پوری نہیں اترے گی، وہ ملک میں کہیں فروخت نہیں ہو سکے گی۔ اجلاس میں ڈریپ اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیف ایگزیکٹوز شریک تھے، جبکہ ڈریپ کے سربراہ نے نظام کے نفاذ پر بریفنگ دی۔

مقامی اور غیر ملکی، سب کمپنیاں پابند

اس پابندی کا دائرہ صرف مقامی صنعت تک محدود نہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں پر بھی یہی اصول لاگو ہوگا، اور نظام کا اطلاق انسانی ادویات کے ساتھ جانوروں اور پولٹری کی ادویات پر بھی ہوگا، کیونکہ ان کا اثر بالآخر انسانی صحت تک پہنچتا ہے۔ وزارت صحت اس نظام پر لگ بھگ ڈیڑھ برس سے کام کر رہی ہے اور ڈریپ ادویہ ساز کمپنیوں کے نمائندوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں کی تربیت مکمل کر چکا ہے۔ یہ اسی فارماسیوٹیکل ٹریک اینڈ ٹریس نظام کا پہلا مرحلہ ہے جس کا مقصد دوا کو فیکٹری سے مریض تک ہر قدم پر قابلِ شناخت بنانا ہے۔

مریض خود موبائل ایپ سے دوا پرکھ سکے گا

نظام کی سب سے عملی بات عام خریدار کے لیے ہے۔ شہری، فارمیسیاں اور میڈیکل اسٹورز موبائل ایپ کے ذریعے کسی بھی دوا کے اصل یا جعلی ہونے کی تصدیق کر سکیں گے، اور اسی ایپ پر دوا کی قیمت اور میعادِ ختم بھی نظر آئے گی۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ وزارت ملک کو جعلی ادویات سے پاک کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرائل کے بعد نفاذ کی رفتار مارکیٹ میں واقعی جعلی دوا کی گنجائش ختم کر پاتی ہے یا نہیں۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے