تجزیہ: آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی صدارت پاکستان کے لیے اعزاز بھی ہے اور اصل امتحان بھی

بنکاک سے آنے والی خبر بظاہر سادہ ہے: پاکستان کو 2027 کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گروپ کے بورڈ آف گورنرز کا آئندہ چیئر منتخب کر لیا گیا ہے، اور یہ مقام ملک کو 1953 کے بعد پہلی بار مل رہا ہے۔ وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، جو ورلڈ بینک میں پاکستان کے گورنر بھی ہیں، کے نام کا اعلان سالانہ اجلاس کے مکمل سیشن میں ہوا۔ سوال یہ ہے کہ اس صدارت سے اصل میں ملتا کیا ہے؟
یہ صدارت فیصلے نہیں بدلتی
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گورنرز بورڈ کی صدارت کوئی فیصلہ کن ووٹ نہیں ہوتی۔ آئی ایم ایف میں اثر و رسوخ حصص اور کوٹے سے آتا ہے، اور وہ ترتیب اس اعلان سے ذرا بھی نہیں بدلی۔ پاکستان اس وقت خود سات ارب ڈالر کے توسیعی پروگرام اور ڈیڑھ ارب ڈالر کی موسمیاتی سہولت کے تحت قرض لے رہا ہے، اور تقریباً ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی اگلی قسط بھی ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ صدارت نہ اس جائزے کو آسان کرے گی اور نہ ہی شرائط نرم کرے گی؛ جو بھی وفد واشنگٹن جائے گا، اسے انہی اعداد و شمار سے گزرنا ہوگا۔
اصل فائدہ آواز اور ایجنڈا ہے
البتہ اس مقام کو محض رسمی کہہ کر رد کرنا بھی درست نہیں۔ چیئر کے پاس سالانہ اجلاس کی کارروائی چلانے، موضوعات کو ترتیب دینے اور ترقی پذیر دنیا کے خدشات کو مرکزی دھارے میں لانے کا موقع ہوتا ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک، موسمیاتی نقصان کا ازالہ اور سستا ترقیاتی فائدہ — یہ وہ معاملات ہیں جن پر پاکستان خود سب سے بلند آواز میں بولنے کی پوزیشن میں ہے، کیونکہ یہ اس کے اپنے مسائل بھی ہیں۔ 191 ممالک کے پندرہ ہزار سے زائد شرکا کے سامنے یہ موقع ہر ملک کو نہیں ملتا، اور 74 برس بعد ملنا اس کی اہمیت اور بڑھا دیتا ہے۔
امتحان 2027 میں شروع ہوگا
اصل پرکھ یہ ہوگی کہ اسلام آباد اس برس کو تصویری سفارت کاری سے آگے بڑھ کر استعمال کرتا ہے یا نہیں۔ اگر صدارت کے سال میں پاکستان کمزور معیشتوں کے لیے قرض اور آب و ہوا کے فائدے پر کوئی ٹھوس مشترکہ لائحہ عمل سامنے لے آیا، تو یہ اعلان تاریخ میں درج ہوگا۔ ورنہ یہ بھی ماضی کی کئی اچھی خبروں کی طرح ایک دن کی سرخی بن کر رہ جائے گا۔ اعزاز مل گیا ہے؛ اب اسے وزن میں بدلنا باقی ہے۔



