ٹماٹر ایک ہفتے میں 23 فیصد سستا ہو گیا مگر آٹا، چنے اور مرغی پھر مہنگی، ہفتہ وار مہنگائی کی سالانہ شرح 11.38 فیصد پر آ گئی

اس ہفتے بازار سے ملی جلی خبریں آئی ہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے جمعہ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 15 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں معمولی سا، صرف 0.04 فیصد، کم ہوا۔ لیکن سالانہ بنیاد پر مہنگائی 11.38 فیصد پر کھڑی ہے، یعنی پچھلے سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں روزمرہ کی اشیا اوسطاً گیارہ فیصد سے زیادہ مہنگی ہیں۔ یہی ہفتہ وار مہنگائی پاکستان کے ہر گھر کے کچن بجٹ کی اصل کہانی بیان کرتی ہے۔
سب سے بڑی رعایت ٹماٹر میں ملی
اس ہفتے سب سے نمایاں کمی ٹماٹر میں دیکھی گئی، جو 23.05 فیصد سستا ہوا۔ پیاز 4.90 فیصد، کیلا 2.59 فیصد اور پیٹرول 0.70 فیصد سستا ہوا۔ ٹوٹا باسمتی چاول 0.65 فیصد، چینی 0.62 فیصد اور گڑ 0.36 فیصد نیچے آیا۔ گویا سلاد اور میٹھے کی طرف سے گھروں کو کچھ سانس ملا ہے۔
مگر روٹی اور سالن مہنگا ہو گیا
دوسری طرف روز کی اصل ضرورتوں نے جیب پر بوجھ بڑھایا ہے۔ چنے کی دال 4.97 فیصد، گندم کا آٹا 3.36 فیصد اور مرغی کا گوشت 3.31 فیصد مہنگا ہوا۔ انڈے 0.99 فیصد، ماش کی دال 0.98 فیصد اور مسور 0.95 فیصد بڑھی۔ ڈیزل میں 0.47 فیصد اور ایل پی جی میں 0.42 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر 51 اشیا میں سے 23 مہنگی ہوئیں، صرف 7 سستی ہوئیں اور 21 کی قیمتیں جوں کی توں رہیں۔
سال بھر کا حساب الگ ہی داستان ہے
سالانہ موازنہ اور بھی سخت ہے۔ پیاز ایک سال میں 75.19 فیصد، ایل پی جی 68.95 فیصد اور پہلی سہ ماہی کے بجلی چارجز 58.59 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ پیٹرول 49.60 فیصد، ڈیزل 43.98 فیصد اور آٹا 35.13 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ البتہ ٹماٹر سال بھر میں 63.65 فیصد، آلو 39.93 فیصد اور چینی 23.20 فیصد سستی بھی ہوئی ہے۔ کھاد سونا یوریا کی اوسط قیمت 4,780 روپے فی 50 کلو بوری پر مستحکم رہی، جبکہ سیمنٹ کی بوری 0.27 فیصد بڑھ کر 1,600 روپے کی ہو گئی۔ اعداد و شمار 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے جمع کیے جاتے ہیں، اور ان کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اس ہفتے کی معمولی کمی کے باوجود گھر کا ماہانہ سودا ابھی سستا نہیں ہوا۔



