پیر, 19 اکتوبر 2026
پیر, 19 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
بابوسر ٹاپ تین روز کی برف باری کے بعد کھل گیا، این ایچ اے نے برف ہٹا کر دونوں اطراف سے ٹریفک بحال کر دی• لاہور کے جیلانی پارک میں عالمی یوم خوراک پر دو روزہ فوڈ گالا ہوا، صفائی برقرار رکھنے کے لیے 60 سے زائد اہلکار تعینات رہے• سندھ کے مسیحی پادریوں نے عائلی قوانین بل میں تمام فرقوں کی برابر مشاورت اور آزاد قانونی جائزے کا مطالبہ کر دیا• پاکستان کا پہلا خلاباز 25 نومبر کو چین سے خلا روانہ ہوگا، 2035 میں چاند پر اترنے کا ہدف بھی رکھ دیا گیا• ’مینگو جٹ‘ پر شائقین کا فیصلہ آ گیا، سینما گھر خالی، کہانی اور ایڈیٹنگ پر سخت تنقید• لبنان کے سفیر نے امریکا ایران امن کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، اسلام آباد کی سفارت کاری پر پھر بات ہونے لگی• سیال پیرس خوراک نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح، 37 کمپنیاں شریک، پکی ہوئی بریانی پہلے دن توجہ کا مرکز بن گئی• حلیم گھر پر بنائیں: گندم، دالوں اور گوشت کی دھیمی آنچ پر پکنے والی ڈش، اصل راز اس کی گھٹائی میں ہے•
تفریح

تیس برس بعد بنگلہ دیشی ثقافتی وفد اسلام آباد پہنچ گیا، 15 رکنی ٹروپ پی این سی اے اور لوک ورثہ میں پرفارم کرے گا

News Cuff

اسلام آباد: تیس برس کے وقفے کے بعد بنگلہ دیش کا ثقافتی رنگ ایک بار پھر وفاقی دارالحکومت میں بکھرنے کو ہے۔ Bangladesh cultural troupe کے 15 ارکان جمعے کو اسلام آباد پہنچ گئے، اور اب ان کی محفلیں ہفتے اور اتوار کو پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) اور لوک ورثہ میں سجیں گی۔

وفد میں کون کون شامل ہے

وفد کی قیادت بنگلہ دیش کی وزارت ثقافتی امور کے جوائنٹ سیکرٹری محمد میزان الرحمٰن کر رہے ہیں۔ ٹروپ میں موسیقار، رقاص اور گلوکار شامل ہیں، جبکہ معروف مصور اور پرنٹ میکر محمد عبدالستار بھی اس قافلے کا حصہ ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دورہ صرف اسٹیج پرفارمنس تک محدود نہیں رہے گا۔ وفد کا استقبال اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیا گیا۔

یہ دورہ کس سلسلے کی کڑی ہے

یہ آمد قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی دعوت پر ہوئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی تبادلوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا، اور اسی سلسلے میں گزشتہ برس نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورہ بنگلہ دیش کے دوران ثقافتی تبادلے کے پروگرام پر دستخط ہوئے تھے۔

چار روزہ قیام کے دوران پاکستانی اور بنگلہ دیشی فنکار ایک ہی اسٹیج پر اپنی روایات پیش کریں گے۔ منتظمین کو امید ہے کہ اس سے نہ صرف فنکار برادری کے روابط بڑھیں گے بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع بھی ملے گا۔ ثقافت کو اکثر وہ پل کہا جاتا ہے جو سفارت کاری سے پہلے دلوں کو جوڑ دیتا ہے، اور تین دہائیوں بعد ہونے والا یہ تبادلہ اسی سوچ کی عملی شکل ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے