سندھ میں ریبیز سے اموات کی تعداد 40 ہو گئی، بلدیہ ٹاؤن کا بزرگ جناح اسپتال میں دم توڑ گیا، اسپتال میں اس سال کتے کے کاٹنے کے 11 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں

کراچی: سندھ میں ریبیز خاموشی سے جانیں لیتی جا رہی ہے، اور اب یہ تعداد چالیس تک جا پہنچی ہے۔ Rabies deaths Sindh کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق بلدیہ ٹاؤن کا رہائشی ستر برس سے زائد عمر کا ایک بزرگ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں دم توڑ گیا۔ حکام کے مطابق اسے تین ہفتے سے زیادہ عرصہ پہلے کتے نے کاٹا تھا، مگر اس نے بروقت حفاظتی علاج نہیں کرایا۔ بزرگ کی وفات جمعرات کو ہوئی اور جمعے کو حکام نے صوبے کا مجموعی اعداد و شمار جاری کیا۔
جناح اسپتال میں 11 ہزار سے زائد کیسز
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف جے پی ایم سی میں اس سال کتے کے کاٹنے کے 11 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور ریبیز سے ہونے والی اموات کی تعداد وہاں 10 ہو گئی ہے، جن میں یہ تازہ کیس بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے بھی حالیہ دنوں میں ڈپلو، تھرپارکر کا 38 سالہ شخص اور حیدرآباد کا 12 سالہ بچہ اسی بیماری کی نذر ہو چکے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف کراچی تک محدود نہیں رہا۔
علاج موجود ہے، دیر جان لیوا بن جاتی ہے
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے، کیونکہ متاثرہ افراد گھریلو ٹوٹکوں یا دم درود کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کے مطابق ریبیز کی علامات ظاہر ہو جائیں تو یہ بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے، لیکن کاٹنے کے فوراً بعد زخم کو صابن اور بہتے پانی سے اچھی طرح دھونا، بروقت ویکسین لگوانا اور ضرورت پڑنے پر امیونوگلوبیولن لینا اس مرض کو روک سکتا ہے۔ ماہرین عوامی آگاہی، آوارہ کتوں کی انسانی بنیادوں پر آبادی کنٹرول کرنے اور اسپتالوں میں علاج کی دستیابی پر زور دیتے ہیں۔



