پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت معطل کر دی، گبد رمدان اور تفتان کی سرحدیں بند ہونے سے ہزاروں کنٹینر پھنس گئے، ایل پی جی کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا

گوادر / کوئٹہ: پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت اچانک معطل کر دی ہے اور گبد رمدان اور تفتان کے سرکاری راستے فوری طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ وزارت تجارت نے 3 اکتوبر کا اپنا پرانا حکم واپس لے لیا، مگر نئے میمورنڈم میں بندش کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
ہزاروں کنٹینر راستے میں پھنس گئے
کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے اپنے ارکان کو مشورہ دیا ہے کہ اگلے حکم تک ایران کے لیے کوئی نیا درآمدی یا برآمدی آرڈر نہ دیا جائے۔ سابق صدر چیمبر ایوب میریانی کے مطابق صرف گبد رمدان پر دو ہزار سے زیادہ کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں۔ تفتان میں ایل پی جی کے تاجر حاجی لیاقت عیسازئی کہتے ہیں کہ فیصلہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہوا، سینکڑوں ٹرک کھڑے ہیں اور کسی کو نہیں معلوم یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔
یہ راستہ اتنا اہم کیوں تھا
گبد رمدان سے روزانہ چار ہزار ٹن سے زیادہ ایل پی جی پاکستان آتی تھی اور یہی راستہ اب ملک کی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کا بڑا ذریعہ بن چکا تھا۔ اسی سرحد سے پاکستانی چاول کی برآمد بھی بڑھی تھی اور لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ آ رہا تھا۔ تاجر خبردار کر رہے ہیں کہ تفتان کا راستہ پہلے ہی بلوچستان کی صورتحال کی وجہ سے متاثر تھا، اب دوسرا راستہ بند ہوا تو کراچی سمیت کئی شہروں میں ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکومتی موقف اور ایران کا ردعمل
چاغی کے ڈپٹی کمشنر بختیار اسماعیل کا کہنا ہے کہ بندش عارضی ہے اور مقصد سرحدی انتظام بہتر بنا کر انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو مضبوط کرنا ہے، موثر انتظامات ہوتے ہی سرحد کھول دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر شاہد رند نے بھی اسمگلنگ کی روک تھام اور سلامتی کو وجہ قرار دیا ہے۔ ادھر ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بندش کو تکنیکی مسائل اور احتیاطی اقدامات سے جوڑا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ملک رابطے میں ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے وانا کے مطابق رمدان گبد سے مسافروں کی آمد و رفت جاری ہے، صرف تجارتی سرگرمی رکی ہے۔



