’مینگو جٹ‘ پر شائقین کا فیصلہ آ گیا، سینما گھر خالی، کہانی اور ایڈیٹنگ پر سخت تنقید

کراچی: فلم ریلیز ہوتے ہی اصل امتحان شروع ہوتا ہے، اور ’مینگو جٹ‘ کے لیے یہ امتحان مشکل نکلا۔ حریم فاروق کی پروڈیوس کردہ پنجابی فلم 16 اکتوبر کو سینماؤں میں آئی تھی، مگر پہلے ہی ویک اینڈ پر شائقین کا ردعمل ٹھنڈا رہا۔ جو لوگ فلم دیکھ کر نکلے، ان میں سے بیشتر مطمئن نظر نہیں آئے۔
شائقین کو کیا پسند نہیں آیا
دیکھنے والوں کی شکایات تقریباً ایک جیسی ہیں۔ کہانی کمزور لگی، اداکار اسکرین پر جچے نہیں اور ایڈیٹنگ اتنی اکھڑی ہوئی کہ مناظر آپس میں جڑتے محسوس نہیں ہوئے۔ کچھ شائقین نے تو یہاں تک کہا کہ ایسی فلم بنائی ہی کیوں گئی۔ کاسٹ نے ریلیز سے پہلے فلم کی بھرپور تشہیر کی تھی اور حریم فاروق اسے پورے پاکستان کی فلم قرار دیتی رہی تھیں، مگر تشہیر کا شور ویک اینڈ کے ہجوم میں نہ بدل سکا۔
سینما گھر خالی، سوالات بڑے
رپورٹس کے مطابق کئی سینماؤں میں نشستیں خالی رہیں۔ یہ فلم عید کے ویک اینڈ پر نہیں آئی تھی، اس لیے ویسے بھی ہجوم کھینچنا آسان نہیں تھا، لیکن خالی ہالوں نے ایک پرانا سوال پھر زندہ کر دیا ہے: پاکستانی فلم کو ناظر چاہیے تو کہانی اور معیار پر سمجھوتا کیوں ہوتا ہے؟ ہدایتکار ابو علیحہ ریلیز سے پہلے ہی تخلیقی اختلافات پر فلم سے الگ ہو گئے تھے، اور اب شائقین کا فیصلہ اس پس منظر کو اور نمایاں کر رہا ہے۔ فلم میں حریم فاروق کے مقابل فیصل قریشی مرکزی کردار میں ہیں۔



