پاکستان کا پہلا خلاباز 25 نومبر کو چین سے خلا روانہ ہوگا، 2035 میں چاند پر اترنے کا ہدف بھی رکھ دیا گیا

نارووال: پاکستان کے پہلے خلاباز کی روانگی کی تاریخ آخرکار سامنے آ گئی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اتوار کو نارووال میں عالمی ہفتہِ خلا کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان کا پہلا خلاباز 25 نومبر کو چین کے خلائی مرکز سے مشن پر روانہ ہوگا۔ ان کے بقول چین کے تعاون سے پاکستان خلائی تحقیق میں نئی بلندیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ تاریخ وزیر کے اعلان کی ہے؛ مشن کی حتمی عملے کی تفصیل چینی خلائی ادارے کی طرف سے آنا باقی ہے۔
تیانگونگ پر ایک ہفتہ
تیاریاں کاغذ پر نہیں، عملی ہیں۔ دو پاکستانی پائلٹ، ذیشان علی اور خرم داؤد، بیجنگ میں خلابازوں کی تربیت لے چکے ہیں، جس میں خلائی جہاز چلانے، چینی زبان میں رابطے اور خلا کے حالات کی مشق شامل تھی۔ ان میں سے ایک چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر تقریباً ایک ہفتہ بطور پے لوڈ اسپیشلسٹ گزارے گا اور وہاں مٹیریل سائنس، بائیو ٹیکنالوجی اور لائف سائنسز کے تجربات کرے گا۔ یہ تعاون فروری 2025 میں طے پانے والے دوطرفہ خلاباز معاہدے کے تحت ہو رہا ہے، اور اسی سلسلے میں پاکستانی ساختہ چاند روور کے 2028 کے لگ بھگ چین کے چانگ ای 8 مشن میں شامل ہونے کی بات بھی چل رہی ہے۔
2035 کا ہدف اور نارووال کا عجائب گھر
احسن اقبال نے اسی تقریب میں اگلا ہدف بھی رکھ دیا: پاکستان 2035 میں چاند پر اترنے کی کوشش کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اب زراعت، رابطوں، موسمیاتی نگرانی، تعلیم اور قومی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے، اور جو ملک تحقیق میں پیچھے رہ گیا وہ ترقی کی دوڑ میں بھی پیچھے رہ جائے گا۔ نوجوانوں میں سائنسی جستجو پیدا کرنے کے لیے انہوں نے یونیورسٹی آف نارووال میں ملک کے پہلے خلائی عجائب گھر اور جدید ٹیکنالوجی مرکز کے منصوبے کا بھی اعلان کیا؛ یہی یونیورسٹی اسلام آباد سائنس فیسٹیول میں پہلی پوزیشن لے چکی ہے۔ اصل سوال اب تاریخ کا نہیں، تسلسل کا ہے: 25 نومبر کا مشن اگر شیڈول پر رہا تو پاکستان ان چند ملکوں میں شامل ہو جائے گا جن کے شہری مدار میں کام کر چکے ہیں، اور پھر 2035 کا ہدف محض تقریر کا جملہ نہیں رہے گا۔



