سندھ کے مسیحی پادریوں نے عائلی قوانین بل میں تمام فرقوں کی برابر مشاورت اور آزاد قانونی جائزے کا مطالبہ کر دیا

کراچی: سندھ کے مختلف مسیحی فرقوں کے پادری رہنماؤں نے مجوزہ سندھ کرسچن فیملی لاز بل 2026 پر اپنا مؤقف کھل کر سامنے رکھ دیا ہے۔ فلاڈیلفیا پینٹی کاسٹل چرچ آف پاکستان میں ہفتے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے پینٹی کاسٹل، ایسوسی ایٹ ریفارمڈ پریسبیٹیرین، پریسبیٹیرین، بیپٹسٹ، میتھوڈسٹ اور ایوینجلیکل گرجا گھروں کے نمائندوں نے مسیحی خاندانوں کے تحفظ اور قانونی حقوق مضبوط کرنے کی کوشش کا خیرمقدم کیا اور 154 سال بعد ہونے والی اس قانون سازی کو سراہا۔
کن اصلاحات کی حمایت کی گئی
پادریوں نے ان نکات کی حمایت کی جن کے تحت شادی کی کم سے کم عمر مرد اور عورت دونوں کے لیے 18 سال ہوگی، شادی دو مسیحی فریقین کے درمیان ہوگی، اور مقدس ازدواجی عہد کے تحفظ، شادی کے اندراج، آزاد اور باخبر رضامندی، نان نفقے، بچوں کے تحفظ اور بروقت انصاف کے مؤثر انتظامات ہوں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ان مقاصد کے لیے قانون کی زبان صاف، طریقہ کار منصفانہ اور عمل درآمد یقینی ہونا چاہیے۔
اصل مطالبہ: کسی ایک فرقے کا نظریہ سب پر نہ تھوپا جائے
پاسٹر اشعر منشا نے کہا کہ قانونی اصلاحات میں بائبل اور مسیحی روایات کے تنوع کی عکاسی ہونی چاہیے: ”قانون سازی تمام مسیحی فرقوں کے ارکان کو برابر شہری تحفظ دے؛ کسی ایک فرقے کے مذہبی نظام، عقیدے یا کلیسائی ضابطے دوسرے فرقوں پر مسلط نہ کیے جائیں۔“ پاسٹر فرانسس حیات نے کہا کہ شہری حقوق کو کلیسائی رسوم، عقائد اور گرجا گھروں کی اندرونی حکمرانی سے الگ اور واضح رکھا جائے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بل کا ایک ایک نکتہ کرسچن میرج ایکٹ 1872 اور ڈائیورس ایکٹ 1869 کی روشنی میں پرکھا جائے، چرچ قیادت، قانونی ماہرین، ماہرینِ الٰہیات اور خواتین سے بامعنی مشاورت ہو، اور آئینی تحفظات، عدالتوں کے دائرہ اختیار اور زیر التوا مقدمات پر آزاد قانونی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی سفارشات شفاف طریقے سے ریکارڈ پر لائی جائیں اور ہر کلیسائی ادارہ اپنا مؤقف آزادانہ دینے کا حق رکھے۔ یہ مطالبات اس لیے بھی اہم ہیں کہ بل کے مسودے پر اس سے پہلے بعض بڑے گرجا گھروں نے تحفظات ظاہر کر رکھے ہیں۔



