پیر, 19 اکتوبر 2026
پیر, 19 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
گھر پر ریسٹورنٹ جیسا چکن تکہ بنانے کا آسان طریقہ، دہی اور مصالحوں کی میرینیشن ہی اصل راز ہے•
جاز کیش نے امریکا میں منی 20/20 کا سلور ایوارڈ جیت لیا، صحت پلس پلیٹ فارم کو انشورنس ٹیکنالوجی میں عالمی اعزاز ملا
• کورین سائنس فکشن تھرلر فلم ’ہوپ‘ 23 اکتوبر کو پاکستان کے سینماؤں میں ریلیز ہوگی، ہم فلمز پیش کرے گی•
این سی اے لاہور میں پنک ٹوبر آگاہی سیشن، چھاتی کے کینسر کی بروقت تشخیص اور صحت مند طرز زندگی پر زور
• آلو قیمہ گھر پر بنائیں: دھابے جیسا مصالحہ، نرم آلو اور وہی پرانا گھریلو ذائقہ جو روٹی کے ساتھ جچتا ہے• ڈی جی آئی ایس پی آر کا دوٹوک پیغام، سعودی عرب کے دفاع کے لیے جو مدد درکار ہے وہ دی جا رہی ہے اور دی جاتی رہے گی• عمرہ زائرین کے لیے بڑی سہولت، مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں ہجوم کی صورتحال اب موبائل پر لائیو دیکھی جا سکے گی• جھنگ تھل جیپ ریلی کا اختتام، سلطان خالد حمید خان نے صحرائی کیٹیگری جیت لی، پیرا گلائیڈر قاضی ظفر کی قربانی نے میلے کو سوگوار کر دیا•
سیاست

ڈی جی آئی ایس پی آر کا دوٹوک پیغام، سعودی عرب کے دفاع کے لیے جو مدد درکار ہے وہ دی جا رہی ہے اور دی جاتی رہے گی

News Cuff

راولپنڈی: سعودی عرب پر حوثی حملوں کے سائے میں پاکستان کی عسکری قیادت نے اپنا مؤقف ایک بار پھر بغیر کسی لگی لپٹی کے سامنے رکھ دیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے جو مدد درکار ہے وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی کی جاتی رہے گی، کیونکہ مملکت کی خودمختاری، اس کی سرحدی سلامتی اور سب سے بڑھ کر حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے لیے غیرضروری بحث سے بالاتر معاملہ ہے۔

حرمین کی حفاظت پر کوئی اگر مگر نہیں

انڈیپنڈنٹ عربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں کوئی ”اگر مگر“ نہیں چلے گا۔ مدد کی نوعیت اور مقدار کوئی بھی اتحاد دنیا کے سامنے نہیں رکھتا، یہ وضاحت بھی انہوں نے ساتھ کر دی، مگر پیغام صاف تھا۔ پاکستان میں گلی کے نوجوان سے لے کر سیاسی و عسکری قیادت تک ہر سطح پر سعودی عرب اور مقامات مقدسہ پر حملوں کی خبر پر غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کے الفاظ تھے کہ کسی ذی شعور انسان کے ذہن میں یہ خیال کیسے آ سکتا ہے کہ وہ سعودی عرب یا حرمین کو نشانہ بنائے یا دھمکی بھی دے۔

حملہ ایک پر، جواب تینوں کا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ اتحاد خالصتاً دفاعی ہے، اس کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں۔ البتہ اگر کوئی فریق تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ جنگ چھیڑے گا تو جواب اجتماعی ہو گا، اور اگر بازدار قوت ناکام ہو جائے تو اسے ہر ممکن ذریعے سے دوبارہ قائم کیا جائے گا۔ یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی ممکنہ درخواست پر انہوں نے کہا کہ فی الحال ان کے علم میں کوئی باضابطہ درخواست نہیں، آئی تو حکومت پاکستان اس کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی۔

کشیدگی کم کرنا ہی راستہ ہے

بیان کا دوسرا رخ سفارت کاری تھا۔ ایران سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہیں اور ہر گفتگو کا ایک ہی مقصد ہے، درجہ حرارت نیچے لانا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو ایک دوسرے پر حملے بند کرنا ہوں گے، کیونکہ اُٹھتی گرتی کشیدگی سے تنازع حل نہیں ہوتا، فائدہ صرف انتشار چاہنے والوں کو ہوتا ہے۔ اتحاد کی توسیع پر انہوں نے بتایا کہ دروازہ ہر اس ملک کے لیے کھلا ہے جو اجتماعی بازداری پر یقین رکھے، جبکہ مصر اور شام کی دلچسپی سے متعلق فیصلہ تینوں ممالک کی قیادت کرے گی۔ واضح رہے کہ مکہ معاہدہ 7 اگست کو طے پایا تھا اور رواں ماہ کے اوائل میں اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب میں افواج و صلاحیتوں کی فوری تعیناتی پر بھی اتفاق ہوا تھا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے