چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر آج تہران کا دورہ کریں گے، کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کی بحالی ایجنڈے میں شامل

اسلام آباد: چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر آج منگل کے روز تہران کا دورہ کریں گے۔ یہ اطلاع ایک پاکستانی عہدیدار اور ایرانی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ دورے کا باقاعدہ شیڈول یا اس کے ایجنڈے کی تفصیل تاحال جاری نہیں کی گئی، تاہم اس کا پس منظر بالکل واضح ہے، پاکستان اس سال امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا مرکزی کردار نبھا رہا ہے اور یہ دورہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔
گرمیوں کی بات چیت جہاں رکی تھی، وہیں سے آغاز
فیلڈ مارشل عاصم منیر گرمیوں میں بھی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں تین باتیں سامنے رہی تھیں، کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا، آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولنا اور لڑائی کو جلد از جلد ختم کرانا۔ تہران کا یہ دورہ درحقیقت انہی نامکمل معاملات کی طرف واپسی ہے۔ اپریل میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کی اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی تھیں، جون میں پاکستان کی کوششوں سے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط بھی ہوئے، مگر جولائی میں وہ عارضی امن بندوبست بھی ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد سے ہرمز میں جہاز رانی اور خطے کی سلامتی دونوں سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
ہرمز کا معاملہ پاکستان کے لیے بھی اہم کیوں ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی رسد کی اہم ترین گزرگاہ ہے۔ وہاں آمد و رفت رکنے کا اثر صرف خطے تک محدود نہیں رہتا، عالمی تیل کی قیمتیں فوراً اوپر جاتی ہیں اور پاکستان جیسے ملک، جو اپنا بیشتر ایندھن باہر سے خریدتا ہے، سب سے پہلے اس کی زد میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد شروع دن سے یہی کہتا آیا ہے کہ بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔
نتائج کا انتظار
ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس دورے سے کوئی فوری پیش رفت نکلے گی۔ نہ ملاقاتوں کی فہرست جاری ہوئی ہے اور نہ کسی ممکنہ معاہدے کا اشارہ ملا ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ جس ہفتے خطے میں ایک طرف سفارتی آمد و رفت تیز ہے، اسی ہفتے فیلڈ مارشل کا تہران جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان اپنا ثالثی کردار چھوڑنے کو تیار نہیں۔ دورے کے بعد جاری ہونے والا بیان ہی اصل سمت واضح کرے گا۔



