کراچی میں دسمبر 2024 کے بعد پولیو کا پہلا کیس سامنے آگیا، چھ ماہ کے بچے میں وائرس کی تصدیق، ملک میں مجموعی تعداد سات ہوگئی

کراچی: شہر میں تقریباً دو سال کی خاموشی کے بعد پولیو پھر لوٹ آیا ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق ضلع شرقی کی یونین کونسل جمالی کالونی سے تعلق رکھنے والے چھ ماہ کے بچے میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ کراچی میں دسمبر 2024 کے بعد سامنے آنے والا پہلا کیس ہے، جس کے بعد ملک بھر میں اس سال کے کیسز کی تعداد سات ہوگئی ہے۔
بچہ نگرانی کے نظام سے پکڑا گیا، لیب نے تصدیق کی
بچے کی نشاندہی ملک کے پولیو نگرانی نظام کے ذریعے ہوئی اور اسلام آباد میں قائم نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی علاقائی ریفرنس لیبارٹری نے رپورٹ کی تصدیق کی۔ سینٹر کا کہنا ہے کہ بچہ غذائی کمی کا شکار تھا اور کراچی میں پہلے سے موجود وائرس کی گردش کا شکار ہوا۔ حکام کے مطابق شہر میں گزشتہ دو برس وائرس کی شدید گردش رہی، تاہم گھر گھر مہمات اور معمول کے حفاظتی ٹیکوں میں بہتری سے منتقلی میں واضح کمی آئی تھی۔ ستمبر میں شہر کی ماحولیاتی نگرانی کی صرف ایک جگہ سے نمونہ مثبت آیا تھا، لیکن انتباہ وہی ہے: جب تک وائرس گھوم رہا ہے، کمزور بچے خطرے میں ہیں۔
سات کیس، پانچ خیبر پختونخوا سے
اس سال کے سات کیسز میں سے پانچ خیبر پختونخوا سے آئے ہیں، جن میں چار بنوں ڈویژن سے ہیں، جبکہ دو سندھ سے رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد اس پیش رفت کے باوجود سامنے آئے ہیں جس پر پروگرام کو فخر ہے: نوے کی دہائی کے اوائل میں سالانہ اندازاً بیس ہزار کیسز سے گھٹ کر 2025 میں صرف 31 کیس رہ گئے، یعنی 99.8 فیصد کمی۔ اس سال اب تک چار ملک گیر مہمات میں ساڑھے چار کروڑ سے زائد بچوں کو بار بار قطرے پلائے جا چکے ہیں۔
جواب میں تحقیقات اور نومبر کی مہم
نئے کیس کے بعد جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو سائنسی بنیادوں پر ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں ہدفی ویکسینیشن اور معمول کے ٹیکوں کو مضبوط کرنا شامل ہے۔ اگلی ذیلی قومی مہم 2 سے 8 نومبر تک 97 اضلاع میں چلے گی، کراچی کے تمام اضلاع بھی اس میں شامل ہیں، اور افغانستان کے ساتھ ہم وقت ہوگی۔ پاکستان اور افغانستان آج بھی دنیا کے صرف دو ملک ہیں جہاں پولیو مقامی طور پر موجود ہے، اسی لیے سینٹر نے والدین سے پھر اپیل کی ہے کہ ہر مہم میں بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں۔



