پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے پر تیسرے دور کے مذاکرات اسلام آباد میں شروع، تین روز جاری رہیں گے

اسلام آباد: پاکستان اور کینیڈا کے درمیان سرمایہ کاری کے معاہدے کی بات چیت ایک قدم اور آگے بڑھ گئی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (بی آئی ٹی) پر تیسرے دور کے مذاکرات پیر کو اسلام آباد میں شروع ہو گئے۔ یہ دور 19 سے 21 اکتوبر تک تین روز جاری رہے گا اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) میں ہو رہا ہے۔
وفود کی قیادت کون کر رہا ہے؟
کینیڈین وفد کی قیادت اسلام آباد میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کر رہے ہیں، جبکہ پاکستانی طرف سے مذاکرات کی سربراہی سیکرٹری ایس آئی ایف سی جمیل احمد قریشی کے پاس ہے۔ دونوں ملکوں کی متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے افسران بھی میز پر موجود ہیں۔ افتتاحی کلمات میں جمیل احمد قریشی نے کینیڈین وفد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس معاہدے کا مکمل ہونا پاکستان کینیڈا تعلقات میں اہم سنگ میل ہوگا۔
سرمایہ کاروں کو کیا ملے گا؟
حکام کے مطابق معاہدہ طے پا جائے تو دونوں طرف کے سرمایہ کاروں کو ایک قابل پیش گوئی، شفاف اور مستحکم قانونی ڈھانچہ ملے گا، اور یہی اعتماد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے بہاؤ کو بڑھاتا ہے۔ کینیڈا کے ہائی کمشنر نے حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور جلد اور متوازن معاہدے کے لیے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کیا، ایسا معاہدہ جو دونوں ملکوں اور ان کی کاروباری برادریوں کے مفاد میں ہو۔
دلچسپی کن شعبوں میں ہے؟
بات چیت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں کینیڈین وفد نے قابل تجدید توانائی، کان کنی، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں کینیڈین سرمایہ کاروں کی دلچسپی اجاگر کی۔ دونوں فریقوں نے پچھلے ادوار کے زیر التوا نکات پر غور شروع کر دیا ہے اور ارادہ یہی ہے کہ تین دن میں زیادہ سے زیادہ زمین طے کر کے مسودے کو حتمی شکل کے قریب لے جایا جائے۔



