قلات کے 20 اغوا شدہ پولیس ریکروٹس بحفاظت بازیاب، منگچر کے علاقے سے مل گئے، تمام اہلکار خیریت سے ہیں

کوئٹہ: چار دن کی پریشانی ختم ہو گئی۔ قلات پولیس ٹریننگ سینٹر کے وہ 20 ریکروٹس جو جمعے کو اغوا کر لیے گئے تھے، اب بحفاظت بازیاب کر لیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق تمام اہلکار قلات ضلع کے علاقے منگچر سے ملے اور ایک سینئر پولیس افسر نے واضح الفاظ میں کہا کہ تمام اہلکار خیریت سے ہیں۔
اغوا کیسے ہوا تھا؟
ریکروٹس ہفتے کے اختتام پر گھروں کو جا رہے تھے۔ نجی وین میں سوار یہ نوجوان قلات سے نوشکی کی طرف سفر کر رہے تھے کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر مستونگ کے قریب مسلح افراد نے گاڑی روک لی۔ پہلے بتائی گئی سرکاری تفصیل کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکلوں پر آئے تھے، خودکار ہتھیار ساتھ تھے، اور وہ ریکروٹس کو گاڑی سمیت نامعلوم مقام کی طرف لے گئے تھے، جبکہ ڈرائیور اور تین دیگر مسافروں کو وہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔
بازیابی پر کیا معلوم ہے؟
ابھی تک بس اتنا سامنے آیا ہے کہ اہلکار منگچر سے بازیاب ہوئے۔ بازیابی کی کارروائی کیسے ہوئی، اس پر حکام نے کوئی تفصیل نہیں دی، نہ یہ بتایا گیا ہے کہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی یا نہیں۔ ذمہ داری بھی تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔ بازیاب اہلکاروں کا تعلق رکھشن ڈویژن سے ہے اور یہ وہی اہلکار ہیں جو لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد پولیس کا حصہ بنے تھے۔
آگے کیا ہوگا؟
اہلکاروں کے گھر والوں کے لیے یہ خبر بلاشبہ بڑی راحت ہے، مگر سوال اپنی جگہ کھڑا ہے کہ شاہراہ پر دن دیہاڑے 20 تربیت یافتہ اہلکار کیسے اٹھا لیے گئے۔ بلوچستان میں حالیہ مہینوں میں اغوا اور حملوں کے واقعات بڑھے ہیں، ایسے میں اس بازیابی کے بعد توقع یہی ہے کہ تفتیش آگے بڑھے گی اور ذمہ داروں تک پہنچنے کی کوشش ہوگی۔



