لاہور کو شنگھائی تعاون تنظیم کا سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت قرار دیے جانے کے بعد شہر میں تین سے چار بڑے ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا

لاہور: لاہور کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت قرار دیا جانا اب صرف ایک خطاب نہیں رہا، اس کے لیے پروگرام بھی بننے لگے ہیں۔ وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے پیر کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجر برادری سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہر میں تین سے چار بڑے ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ تیار ہے۔
کراچی، اسلام آباد اور رکن ملک بھی شریک ہوں گے
وزیر نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ ان پروگراموں میں کراچی اور اسلام آباد کے ساتھ ساتھ تنظیم کے رکن ممالک کی ثقافتی شرکت بھی یقینی بنائی جائے۔ ان کے بقول لوک میلہ پاکستان کا ایک اہم بین الاقوامی ثقافتی پلیٹ فارم ہے، اور اس کے ذریعے پاکستانی فنکاروں اور دستکاروں کو عالمی سامعین تک پہنچنے کے مواقع ملیں گے۔ وزارت اور لاہور چیمبر مل کر تخلیقی معیشت کو فروغ دینے، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور روایتی فنون و دستکاری کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے کام کریں گے۔
ورثے کی فہرست میں پاکستان ابھی پیچھے ہے
اورنگزیب کھچی نے ایک تلخ حقیقت بھی سامنے رکھی۔ پاکستان کے صرف چھ مقامات یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل ہیں، جبکہ بھارت کے تیس اور چین کے ساٹھ مقامات اس فہرست میں جگہ بنا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال دو مزید تاریخی مقامات کی نامزدگی پر پیش رفت ہوئی ہے۔ وزارت سے وابستہ مفاہمتی یادداشتوں کی تعداد بھی ایک سال میں 23 سے بڑھ کر 40 ہو گئی ہے۔
خطاب کہاں سے ملا
لاہور کو یہ اعزاز بشکیک میں ہونے والے تنظیم کے سربراہی اجلاس میں ملا تھا، جہاں پاکستان نے 2026-27 کے لیے تنظیم کی صدارت بھی سنبھالی۔ اس سے پہلے یہ خطاب کرغزستان کے شہر چولپون آتا کے پاس تھا۔ قلعہ لاہور، شالامار باغ، بادشاہی مسجد اور اندرونِ شہر جیسے مقامات رکھنے والے لاہور کے لیے اب اصل امتحان یہی ہے کہ خطاب کاغذ سے نکل کر زمین پر نظر آئے۔



