کراچی کی تین بڑی جامعات آئی بی اے، آغا خان یونیورسٹی اور حبیب یونیورسٹی مصنوعی ذہانت پر مبنی تدریس کے لیے ایک پلیٹ فارم پر آ گئیں، مفاہمتی یادداشت پر دستخط

کراچی: مصنوعی ذہانت کلاس روم میں داخل ہو چکی ہے، سوال یہ ہے کہ استاد اس کے ساتھ چلے گا کیسے۔ اسی سوال پر کراچی کی تین بڑی جامعات ایک میز پر آ بیٹھی ہیں۔ آئی بی اے کراچی، آغا خان یونیورسٹی اور حبیب یونیورسٹی نے مصنوعی ذہانت پر مبنی تدریس و تعلم میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔
دستخط کہاں اور کس نے کیے
یادداشت پر دستخط آئی بی اے کے مرکزی کیمپس میں منعقدہ سالانہ ٹیچنگ اینڈ لرننگ سمپوزیم 2026 کے دوران ہوئے، جس کا موضوع تھا «اے آئی اِن پیڈاگوجی»۔ دستاویز پر آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس اکبر زیدی، آغا خان یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین اور حبیب یونیورسٹی کے صدر واصف رضوی نے دستخط کیے۔ تینوں اداروں کا کہنا ہے کہ مقصد الگ الگ تجربوں کے بجائے ایک مشترکہ پلیٹ فارم سے آگے بڑھنا ہے۔
بحث کس بات پر ہوئی
سمپوزیم کی کنوینر ڈاکٹر ثنا توصیف نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ مصنوعی ذہانت کے اثرات سے نمٹنا کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں۔ آغا خان یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ کے ڈین ڈاکٹر فرید پنجوانی نے اس اشتراک کو تدریس و تعلم کی پیش رفت میں ایک سنگ میل قرار دیا۔ ایک پینل میں یہ سوال بھی اٹھا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں جامعات کو کیا چھوڑنا، کیا شروع کرنا اور کیا جاری رکھنا چاہیے۔
اصل امتحان تنقیدی سوچ کا
کلیدی خطاب اوسلو یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر فضیلت صدیق نے دیا اور ان کی گفتگو کا محور یہی تھا کہ جب جواب مشین دے سکتی ہے تو طالب علم کی تنقیدی سوچ اور خود مختاری کیسے بچے گی۔ سمپوزیم میں انٹرایکٹو سیشنز، ایڈ ٹیک شوکیس اور طلبہ کی پرفارمنس بھی شامل رہی۔ تینوں جامعات کے اس اشتراک کا اصل پیمانہ اب یہ ہوگا کہ دستخط شدہ کاغذ کیمپس کی روزمرہ تدریس میں کتنا نظر آتا ہے۔



