پاکستان میں زیتون کے تیل کی پیداوار 716 ٹن تک پہنچ گئی، 76 لاکھ سے زائد پودے 60 ہزار ایکڑ پر لگ چکے

لاہور: پاکستان زیتون کے تیل کی کہانی اب کسی تجربے کی نہیں رہی۔ 2016 میں ملک میں زیتون کے تیل کی پیداوار محض 19 کلوگرام تھی؛ سرکاری سروے کے تازہ اعداد کے مطابق 2026 میں یہ بڑھ کر تقریباً 716 ٹن تک جا پہنچی ہے، جبکہ زیتون کے پھل کی پیداوار کا تخمینہ 7 ہزار 412 ٹن لگایا گیا ہے۔
باغات کہاں کہاں پھیلے
سروے کے مطابق ملک بھر کے 131 اضلاع میں 60 ہزار 456 ایکڑ پر 76 لاکھ 40 ہزار زیتون کے پودے لگ چکے ہیں۔ سب سے بڑا حصہ بلوچستان کا ہے، جہاں 31 اضلاع میں 24 ہزار 620 ایکڑ پر 32 لاکھ پودے ہیں۔ پنجاب میں 22 لاکھ 40 ہزار اور خیبر پختونخوا میں 16 لاکھ 60 ہزار پودے لگے، جبکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، سندھ اور اسلام آباد میں بھی پودے لاکھوں میں شمار ہوتے ہیں۔ قومی زیتون پالیسی کا ہدف 2030 تک رقبہ ایک لاکھ ایکڑ اور پودوں کی تعداد ایک کروڑ تک لے جانا ہے۔
اصل رکاوٹ کھیت میں نہیں، شیلف پر ہے
پیداوار بڑھ رہی ہے، مگر دکانوں کی شیلف پر مقامی زیتون کا تیل کم ہی نظر آتا ہے۔ نیشنل الائنس فار سیف فوڈ کے سربراہ اویس خان کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ برانڈنگ، پیکجنگ اور مارکیٹنگ ہے — کاشتکار کے پاس یہ مہارت نہیں اور ابھی کارپوریٹ شعبہ اس کاروبار میں آیا نہیں۔ اسی خلا کو پر کرنے کے لیے ‘پاک اولیو’ تصدیقی نشان متعارف کرایا گیا ہے، جو صرف معیار پر پورا اترنے والے تیل کو ملے گا۔ کامیابی کی صورت میں فائدہ دوہرا ہوگا: کسان کو بہتر آمدنی اور ملک کو مہنگے درآمدی خوردنی تیل کے بل میں کچھ کمی۔



