منگل, 20 اکتوبر 2026
منگل, 20 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
حکومت کی اپوزیشن کو دہشت گردی پر مذاکرات کی پیشکش، رانا ثناء اللہ نے کہا وزیراعظم تمام فریقوں کو بلانے کے لیے تیار ہیں• پاکستان نے انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دے دی، عرفات منہاس کی پہلی نصف سنچری اور چھ وکٹوں نے میچ کا رخ بدل دیا• مسجد نبوی میں ستمبر کے ایک مہینے میں 2 کروڑ 16 لاکھ زائرین کی حاضری، 14 لاکھ 49 ہزار نے روضہ رسول میں نماز ادا کی• لام فیشن ویک کا دوسرا ایڈیشن لاہور میں سجے گا، 43 شوز میں 50 سے زائد لیبلز شریک، نیلوفر شاہد خصوصی شو کریں گی• گھر پر ریسٹورنٹ جیسا بٹر چکن بنانے کی ترکیب، مخملی ٹماٹر مکھن گریوی کے ساتھ نرم بوٹی اور اوپر سے کریم کی لکیر• لاہور ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے 20 سے زائد ملازمین پریمیم سیٹوں کی فیس جیب میں ڈالنے میں ملوث نکلے، آڈٹ میں 50 لاکھ 60 ہزار روپے کی بے ضابطگی سامنے آ گئی• پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا دفاعی صنعت میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دوحہ میں دستخط کریں گے•
حج کی دوسری قسط کی آخری تاریخ پر 97 ہزار عازمین نے واجبات جمع کرا دیے، 61 ارب روپے وصول ہو گئے
•
تفریح

سندھ ہائی کورٹ نے فلم ‘گھوسٹ اسکول’ پر سنسر بورڈ کی بیشتر کٹوتیاں کالعدم قرار دے دیں، 10 روز میں نئے سرٹیفکیٹ کا حکم

News Cuff

کراچی: فلم ‘گھوسٹ اسکول’ کے بنانے والوں کو سندھ ہائی کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا ہے۔ عدالت کے دو رکنی بینچ نے سندھ بورڈ آف فلم سنسرز کی عائد کردہ آٹھ میں سے بیشتر کٹوتیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ 10 روز کے اندر فلم کے سرٹیفکیٹ پر دوبارہ غور کرے۔ بینچ میں جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری شامل تھے۔

‘کاٹنے کا اختیار لامحدود نہیں’

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ بورڈ یہ واضح کرنے میں ناکام رہا کہ متنازع مواد قانون کی کس شق کی خلاف ورزی کرتا ہے یا اسے ہٹانا کیوں ضروری تھا۔ ججوں نے ریمارکس دیے کہ کٹوتی کا اختیار لامحدود نہیں ہوتا، ہر کاٹ کا جائزہ اس کے مقصد اور آئین کے آرٹیکل 19 میں دی گئی آزادی اظہار کے تناظر میں لیا جانا چاہیے۔ صرف ایک کٹوتی باقی رہی — اسکول کے ایک منظر میں بچے کی نامناسب بات — جسے ہٹانے پر فلم ساز خود بھی رضامند ہو گئے تھے۔ بورڈ اب فلم کو مزید کٹوتی کے بغیر عوامی نمائش کا سرٹیفکیٹ دے، اور اگر وہ اسے ‘یو’ سے اوپر کی کیٹیگری میں رکھنا چاہے تو فلم سازوں کو ذاتی سماعت کا موقع دے کر ہر اعتراض کی وجہ تحریری طور پر بتائے۔

فلم ہے کس بارے میں

سیماب گل کی یہ فلم ایک 10 سالہ بچی کی کہانی ہے جو دیکھتی ہے کہ اس کے گاؤں کا اکلوتا اسکول بند پڑا ہے اور گاؤں میں اس کے بھوت زدہ ہونے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی اور پنجاب کے سنسر بورڈز یہی فلم پہلے ہی پاس کر چکے ہیں؛ تنازع صرف سندھ بورڈ کے انکار سے کھڑا ہوا تھا، جس کے خلاف فلم ساز آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت آئے تھے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے