سندھ ہائی کورٹ نے فلم ‘گھوسٹ اسکول’ پر سنسر بورڈ کی بیشتر کٹوتیاں کالعدم قرار دے دیں، 10 روز میں نئے سرٹیفکیٹ کا حکم

کراچی: فلم ‘گھوسٹ اسکول’ کے بنانے والوں کو سندھ ہائی کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا ہے۔ عدالت کے دو رکنی بینچ نے سندھ بورڈ آف فلم سنسرز کی عائد کردہ آٹھ میں سے بیشتر کٹوتیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ 10 روز کے اندر فلم کے سرٹیفکیٹ پر دوبارہ غور کرے۔ بینچ میں جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری شامل تھے۔
‘کاٹنے کا اختیار لامحدود نہیں’
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ بورڈ یہ واضح کرنے میں ناکام رہا کہ متنازع مواد قانون کی کس شق کی خلاف ورزی کرتا ہے یا اسے ہٹانا کیوں ضروری تھا۔ ججوں نے ریمارکس دیے کہ کٹوتی کا اختیار لامحدود نہیں ہوتا، ہر کاٹ کا جائزہ اس کے مقصد اور آئین کے آرٹیکل 19 میں دی گئی آزادی اظہار کے تناظر میں لیا جانا چاہیے۔ صرف ایک کٹوتی باقی رہی — اسکول کے ایک منظر میں بچے کی نامناسب بات — جسے ہٹانے پر فلم ساز خود بھی رضامند ہو گئے تھے۔ بورڈ اب فلم کو مزید کٹوتی کے بغیر عوامی نمائش کا سرٹیفکیٹ دے، اور اگر وہ اسے ‘یو’ سے اوپر کی کیٹیگری میں رکھنا چاہے تو فلم سازوں کو ذاتی سماعت کا موقع دے کر ہر اعتراض کی وجہ تحریری طور پر بتائے۔
فلم ہے کس بارے میں
سیماب گل کی یہ فلم ایک 10 سالہ بچی کی کہانی ہے جو دیکھتی ہے کہ اس کے گاؤں کا اکلوتا اسکول بند پڑا ہے اور گاؤں میں اس کے بھوت زدہ ہونے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی اور پنجاب کے سنسر بورڈز یہی فلم پہلے ہی پاس کر چکے ہیں؛ تنازع صرف سندھ بورڈ کے انکار سے کھڑا ہوا تھا، جس کے خلاف فلم ساز آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت آئے تھے۔



