آئی ایم ایف نے پاکستان کے ٹیکس نظام کو غیر منصفانہ قرار دے دیا، تنخواہ داروں کی وصولی 629 ارب روپے ہو گئی، ریئلٹی سے آمدنی 38 فیصد گر گئی

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ نے صاف کہہ دیا ہے کہ پاکستان کو ایک fairer tax system چاہیے، ورنہ اصلاحات کا بوجھ ہمیشہ انہی کندھوں پر رہے گا جو پہلے ہی نظام کے اندر ہیں۔ آئی ایم ایف کے علاقائی ڈائریکٹر جہاد ازور نے منگل کو اسلام آباد میں وزارت خزانہ کے ساتھ دو روزہ ٹیکس ورکشاپ کے افتتاح پر کہا کہ منصفانہ نظام ہو تو لوگ ازخود ٹیکس دینے پر آمادہ ہوتے ہیں اور کاروبار چھوٹا رہنے کے بجائے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اعداد خود کہانی سنا رہے ہیں
ورکشاپ میں پیش اعداد و شمار کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام سے پہلے تنخواہ دار طبقہ سالانہ 391 ارب روپے ٹیکس دیتا تھا، جو دو مالی سالوں میں بڑھ کر جون 2026 تک 629 ارب روپے ہو گیا۔ اس کے برعکس ریئلٹی سیکٹر سے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں آمدنی 38 فیصد گر کر صرف 35 ارب 20 کروڑ رہ گئی، جو پچھلے سال سے 22 ارب کم ہے۔ زراعت سے پنجاب اور سندھ نے ملا کر ساڑھے بارہ ارب روپے کے مجموعی ہدف کے مقابلے میں محض 5 ارب 10 کروڑ جمع کیے، جبکہ تاجر سکیم میں 15 اکتوبر تک صرف 137 نئے ریٹیلر شامل ہوئے، ہدف دس لاکھ کا ہے۔
استحکام سے آگے بڑھنے کا وقت
ازور کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مشکلات کے باوجود معاشی استحکام واپس حاصل کیا ہے، لیکن اب اگلا قدم اس استحکام کو پائیدار ترقی میں بدلنا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنا، رعایتوں میں کمی، انتظامیہ کو مضبوط بنانا اور صوبوں و وفاق کا ہم آہنگی سے آگے بڑھنا ہی وہ راستہ ہے جس سے سرمایہ کاری اور روزگار بڑھے گا۔ ورکشاپ بدھ کو بھی جاری رہے گی، جس میں متحد سیلز ٹیکس اور ڈیجیٹل انتظامیہ سمیت چھ سیشن ہوں گے۔



