امریکا سے ٹیکنالوجی تعاون انتخاب نہیں، ضرورت ہے، ڈیلس میں پاک یو ایس ٹیک کنیکٹ 2026 سے سفیر رضوان سعید شیخ کا خطاب

ڈیلس: امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بات سیدھی اور دو ٹوک کہی ہے: امریکا کے ساتھ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون پاکستان کے لیے کوئی انتخاب نہیں، ضرورت ہے۔ وہ پیر کو ارونگ کے وائنڈھم ڈی ایف ڈبلیو ایئرپورٹ ہوٹل میں Pak-US Tech Connect کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جہاں پاکستان کی بڑی ٹیک کمپنیاں امریکی تاجروں، سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی خریداروں کے سامنے اپنی صلاحیتیں پیش کرنے آئی تھیں۔
امریکا ہی سب سے بڑی منڈی ہے
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فیصل جیدی نے کانفرنس میں اعداد و شمار رکھے: پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کا تقریباً 57 فیصد حصہ صرف امریکا جاتا ہے، اور ستمبر 2026 میں آئی ٹی برآمدات تقریباً 43 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچیں۔ سفیر کا کہنا تھا کہ دونوں ملک دنیا کے پانچ بڑے آبادی والے ملکوں میں آتے ہیں، اور پاکستان کی 60 سے 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے؛ یہی نوجوان افرادی قوت امریکی منڈی کی ٹیکنالوجی اور سرمایے کے ساتھ مل کر اصل موقع بنتی ہے۔ انہوں نے خود کو مذاقاً پاکستان کا "چیف مارکیٹنگ آفیسر” بھی کہا۔
کمپنیاں شو کیس نہیں، کاروبار کرنے آئیں
اس بار فارمیٹ پچھلی دو کانفرنسوں سے مختلف رکھا گیا۔ ایبیکس، آربیسافٹ، ایڈو اے آئی، نیکسٹ برج اور امومبا سمیت 13 سے 14 قائم شدہ پاکستانی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ، سائبر سکیورٹی، فن ٹیک اور انٹرپرائز سولیوشنز میں اپنے کام پیش کیے، اور امریکی فرموں کے ساتھ براہ راست کاروباری ملاقاتیں ہوئیں۔ منتظمین میں پی ایس ای بی اور اوپن گلوبل کے ساتھ ہیوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ بھی شامل تھا۔
سلسلہ واشنگٹن اور شکاگو جائے گا
ٹیک کنیکٹ کا یہ تیسرا ایڈیشن ہے، جو 16 اکتوبر کو سلیکون ویلی سے شروع ہوا تھا۔ ڈیلس کے بعد یہ سلسلہ 21 اکتوبر کو واشنگٹن ڈی سی اور 23 اکتوبر کو شکاگو پہنچے گا۔ شرکا کا مشترکہ پیغام یہی تھا کہ اصل کامیابی تب ہوگی جب یہ ملاقاتیں مستقل تجارتی شراکتوں اور پاکستان میں نئی ملازمتوں میں بدلتی نظر آئیں۔



