ملتان میں 15 سالہ یتیم وسیم عباس کے قتل پر فنکار بھی بول اٹھے، مشی خان، یمنیٰ زیدی اور فیضہ خان کا فوری انصاف کا مطالبہ

ملتان: ایک 15 سالہ یتیم بچے کی موت نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور اب شوبز شخصیات بھی justice for Waseem کی آواز میں آواز ملا رہی ہیں۔ وسیم عباس مظفرگڑھ کا رہنے والا تھا، والد کے انتقال کے بعد کئی سال سے ملتان کے دارالخدا یتیم خانے میں رہ رہا تھا۔ اسے تقریباً ایک ہفتہ پہلے بجلی کا کام سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار توقیر کے حوالے کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ کام کی جگہ پر بدسلوکی کے بعد وسیم بھاگا تو توقیر اور اس کے ساتھی امجد نے کار میں تقریباً ایک کلومیٹر تک اس کا پیچھا کیا اور اسے کچل دیا۔ بچہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
فنکاروں کا غم و غصہ
اداکارہ اور میزبان مشی خان نے انسٹاگرام پر لکھا: "اللہ کے قہر سے ڈریں سب ظالم لوگ۔” یمنیٰ زیدی نے بھی انسٹاگرام سٹوریز پر اس سانحے پر ردعمل دیا، اداکارہ فیضہ خان نے وسیم کے لیے انصاف اور ذمہ داروں کو سزا کا مطالبہ کیا، جبکہ اداکار فیضان شیخ نے ملک میں قانون کی عملداری پر سوال اٹھایا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے پوچھا کہ ٹکر کے بعد بچے کو فوری طبی امداد کیوں نہ ملی، اور مطالبہ کیا کہ بچوں کو کام پر بھیجنے والے یتیم خانوں کا آڈٹ کیا جائے۔
ملزم ریمانڈ پر، دوسرے کی تلاش جاری
پولیس نے مقدمہ نمبر 990/2026 دفعہ 302 اور 34 کے تحت درج کر رکھا ہے۔ توقیر گرفتار ہے اور گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی ہے؛ منگل کو عدالت نے اسے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا۔ دوسرے ملزم امجد کی گرفتاری کے لیے فیصل آباد میں چھاپے جاری ہیں۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز خود اس مقدمے کی نگرانی کر رہی ہیں اور خواتین و بچے ان کی "ریڈ لائن” ہیں۔
سوال اب یتیم خانے پر بھی ہے
وسیم کو اس کے آبائی گاؤں دولت پور، مظفرگڑھ میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس اب یہ بھی جانچ رہی ہے کہ یتیم خانے نے کن حالات میں ایک 15 سالہ بچے کو ٹھیکیدار کے ساتھ کام پر بھیجا۔ یہی وہ سوال ہے جو اس مقدمے کو ایک فرد کے جرم سے بڑھا کر ان تمام بچوں کے تحفظ کا معاملہ بنا دیتا ہے جو اداروں کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔



