سپریم کورٹ کا اسپتالوں میں آپریشن تھیٹرز کے باقاعدہ معائنے اور ہر اسپتال میں شکایات ڈیسک قائم کرنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ملک بھر میں hospital oversight کو سخت کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے سرکاری اور نجی اسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز کے باقاعدہ معائنے اور اچانک دورے کرنے، ہر اسپتال میں مریضوں کی شکایات کے لیے ڈیسک قائم کرنے اور 90 روز میں عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ فیصلہ طبی غفلت کے ایک پرانے مقدمے میں بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سنایا گیا۔
بی بی حنیفہ کا مقدمہ، 2007 سے چلا آ رہا کیس
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شکیل احمد شامل تھے، نے بی بی حنیفہ کی 2018 کی سول درخواست اور متعلقہ اپیل منظور کر لی اور انہیں مقدمے کے اخراجات بھی دلوائے۔ 23 صفحات کے تفصیلی فیصلے کے مطابق بی بی حنیفہ 20 نومبر 2007 کو آٹھویں بچے کی پیدائش کے لیے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال پشین میں داخل ہوئی تھیں۔ سی سیکشن کے بعد انہیں پیٹ میں درد اور بخار شروع ہو گیا۔ حالت بگڑنے پر انہیں دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک اور آپریشن کے دوران ان کے پیٹ سے طبی اسفنج برآمد ہوئے، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلی سرجری کے دوران اندر ہی رہ گئے تھے۔ ان کا نوزائیدہ بچہ بھی پیدائش کے اگلے دن انتقال کر گیا تھا۔
عدالت کی ہدایات کیا ہیں
عدالت نے کہا کہ آپریشن تھیٹرز کی باقاعدہ جانچ ہو اور خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے۔ ہر اسپتال میں شکایات کے ازالے کا ایسا نظام ہو جو مریض کے لیے آسان بھی ہو اور بروقت بھی۔ ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے کو مریضوں کی حفاظت اور انفیکشن سے بچاؤ کی باقاعدہ تربیت دی جائے، اور نئے فارغ التحصیل ڈاکٹر اہل سرجنوں کی نگرانی میں کام کریں۔ فیصلے کی نقول محکمہ صحت، وزیراعظم آفس اور ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھی بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ہدایات حتمی نہیں، مزید بھی آ سکتی ہیں
عدالت نے واضح کیا کہ یہ ہدایات جامع ضرور ہیں مگر آخری نہیں۔ سیکرٹری صحت چاہیں تو مزید ہدایات جاری کر سکتے ہیں۔ متعلقہ حکام کو رجسٹرار کے ذریعے 90 دن میں رپورٹ جمع کرانا ہوگی، جس سے معلوم ہوگا کہ کاغذ پر لکھے یہ احکامات اسپتالوں کی روزمرہ زندگی میں واقعی اترتے ہیں یا نہیں۔



