پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، دو سال میں تجارت 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر

اسلام آباد: اعداد خود کہانی سناتے ہیں۔ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان اس وقت تجارت محض ایک کروڑ 39 لاکھ ڈالر کی ہے، اور بدھ کو دونوں ملکوں نے اسے دو سال میں 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے کا ہدف باندھ لیا۔ اس اعلان کے ساتھ 20 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کا تبادلہ بھی ہوا، جن کی موجودگی میں وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو خود موجود تھے۔
یہ دستخط صدر معیزو کے تین روزہ سرکاری دورے کا مرکز تھے — 11 سال میں کسی مالدیپی صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ، اور وہ بھی اس سال جب دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کو 60 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نے صاف کہا کہ موجودہ تجارت اصل استعداد کا معمولی سا حصہ ہے: «ہم پوری کوشش کریں گے کہ اگلے دو سال میں دوطرفہ تجارت 13 ملین ڈالر سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک لے جائیں۔» صدر معیزو نے ہدف کی مکمل تائید کی اور اس شراکت کو «نئے دور» کا آغاز قرار دیا، ساتھ یہ بھی کہا کہ معاہدے تبھی معنی رکھتے ہیں جب ان کے نتائج عوام تک پہنچیں۔
کاغذوں سے آگے کیا ہے؟
یادداشتوں کا دائرہ خاصا وسیع ہے: صحت، تعلیم، تکنیکی تربیت، سیاحت، شہری ہوابازی، زراعت، ماہی گیری، دفاع، بحری سلامتی، قانون نافذ کرنے والے ادارے، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ادویات کی نگرانی — پاکستان کی ڈریپ اور مالدیپ کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے درمیان تعاون بھی اسی پیکج میں شامل ہے۔ پاکستان نے مالدیپی طلبہ کے لیے سالانہ 20 اضافی انڈرگریجویٹ وظائف کا اعلان کیا، اور صدر معیزو کے پانچ ملین درخت لگانے کے منصوبے کے لیے ایک لاکھ زیتون کی قلمیں اور مختلف انواع کے ایک لاکھ بیج دینے کا وعدہ بھی کیا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 250 پاکستانی ڈاکٹر اور طبی عملہ مالدیپ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔
اگلا امتحان عمل درآمد کا ہوگا۔ اسی سلسلے میں جمعرات کو مالدیپ–پاکستان بزنس فورم ہو رہا ہے، جہاں دونوں ملکوں کے تاجر اور سرمایہ کار آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ کاغذ پر ہدف بڑا ہے؛ بازار اسے کتنا سنجیدہ لیتا ہے، یہی فورم بتائے گا۔



