پی آئی ٹی بی نے آئی ٹی ہارڈویئر جدت اور تحقیق کے لیے تین سرکاری جامعات کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے

لاہور: پی آئی ٹی بی میکر اسپیس پنجاب پروگرام کا دائرہ بدھ کو مزید پھیل گیا۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے تین سرکاری جامعات کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، جس کے بعد ان جامعات کے طلبہ اور محققین کو بورڈ کی لیبارٹریوں اور پروٹوٹائپ سہولتوں تک رسائی ملے گی — وہ سہولتیں جو عام طور پر ان کی پہنچ سے باہر رہتی ہیں۔
یہ معاہدے کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے لاہور کیمپس، یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور اور جامعہ پنجاب لاہور کے ساتھ طے پائے۔ بورڈ کی جانب سے دستخط ڈائریکٹر جنرل ای گورننس ساجد لطیف نے کیے، جبکہ جامعات کی نمائندگی کامسیٹس لاہور کیمپس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس، یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاقف انور چودھری اور جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کی۔ اس موقع پر پی آئی ٹی بی کے ڈائریکٹر سکلز ڈویلپمنٹ احمد اسلام سیان اور میکر اسپیس پنجاب کی ٹیم بھی موجود تھی۔
صرف کاغذی کارروائی نہیں، لیبارٹری اور رہنمائی بھی
معاہدوں کے تحت تینوں جامعات کے طلبہ، محققین اور اساتذہ کو خصوصی لیبارٹریوں، تکنیکی رہنمائی، تربیت اور پروٹوٹائپ بنانے کی سہولتوں تک رسائی ملے گی۔ مقصد سادہ ہے: اچھے خیالات کلاس روم کی کاپیوں سے نکل کر چلتی پھرتی مصنوعات کی شکل اختیار کریں۔ مشترکہ تحقیق، علم کا تبادلہ اور تعلیمی منصوبے سے بازار تک کا فاصلہ کم کرنا اسی منصوبے کا حصہ ہے۔
پی آئی ٹی بی کے چیئرمین فیصل یوسف کے مطابق میکر اسپیس پنجاب حکومت پنجاب کا منصوبہ ہے جس پر بورڈ عمل کر رہا ہے، اور اس کا ہدف پروڈکٹ ڈیزائن، تیز رفتار پروٹوٹائپنگ اور ٹیکنالوجی مصنوعات کی مقامی تیاری کے ذریعے صوبے کے آئی ٹی ہارڈویئر نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
نوجوان تکنیکی صلاحیت کی باتیں تو صوبے میں اکثر ہوتی ہیں؛ اصل امتحان یہی ہوگا کہ ان لیبارٹریوں میں بننے والے کتنے پروٹوٹائپ کبھی بازار کی شیلف تک پہنچتے ہیں۔



