اکتوبر میں قطر سے صرف دو ایل این جی کارگو آئے، پاکستان کی ایل این جی درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں تیزی سے گر گئیں

اسلام آباد: سردیوں سے پہلے ہی گیس کی تصویر تشویشناک نظر آنے لگی ہے۔ اکتوبر میں پاکستان کو قطر سے صرف دو ایل این جی کارگو ملے ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں آٹھ کارگو آئے تھے۔ دوسرا کارگو لے کر جہاز ایجنان اس ہفتے پاکستان گیس پورٹ ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا، جس کے بعد 9 اکتوبر سے بند ٹرمینل دوبارہ چل پڑا۔ مہینے کا پہلا کارگو 13 اکتوبر کو اینگرو کے ٹرمینل پر پہنچا تھا۔
گراوٹ صرف ایک مہینے کی کہانی نہیں
اوگرا کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے اکتوبر کے درمیان ملک میں مجموعی طور پر صرف 20 ایل این جی کارگو آئے، جن میں 13 طویل مدتی قطری معاہدوں کے تحت اور 7 اسپاٹ مارکیٹ سے خریدے گئے۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد لگ بھگ 72 تھی۔ ستمبر میں ایل این جی سے بجلی کی پیداوار میں 56 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ بجلی گھروں نے مجبوراً دوسرے ایندھن کی طرف رخ کیا۔
کم درآمد کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بل ہلکا ہو گیا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ایل این جی کا درآمدی بل 41 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کے 71 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے کہیں کم ہے۔ لیکن یہ بچت گھروں اور صنعتوں کو گیس کی کمی کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق قطری معاہدے کی گیس 14 سے 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پڑتی ہے، جبکہ اسپاٹ مارکیٹ میں نرخ 30 ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
قطر انرجی مارچ میں راس لفان کی تنصیب پر حملے کے بعد فورس میجر نافذ کر چکی ہے، جس میں 6 نومبر تک توسیع ہو چکی ہے۔ دوسری طرف سردیوں میں سوئی ناردرن کی طلب 500 سے بڑھ کر 1 ہزار 550 ایم ایم سی ایف ڈی اور سوئی سدرن کی 300 سے 500 ایم ایم سی ایف ڈی تک جانے کا اندازہ ہے۔ دو کارگوز کے سہارے یہ خلا پُر کرنا آسان نہیں ہوگا — اصل امتحان دسمبر اور جنوری کا ہے، جب درجہ حرارت گرتا ہے اور ہر گھر کا ہیٹر اسی گیس کا طلبگار بن جاتا ہے۔



