جمعرات, 22 اکتوبر 2026
جمعرات, 22 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
پی آئی اے یکم دسمبر سے اسلام آباد سے برمنگھم کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرے گی، لندن آپریشن بھی بڑھا دیا گیا• صدر آصف علی زرداری 22 سے 24 اکتوبر تک جرمنی کا دورہ کریں گے، تجارت اور معاشی تعاون ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا• اکتوبر میں قطر سے صرف دو ایل این جی کارگو آئے، پاکستان کی ایل این جی درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں تیزی سے گر گئیں• ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلو تک جا پہنچی، سرکاری نرخ 279 روپے مگر بازار میں کہیں عمل درآمد نہیں• پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، دو سال میں تجارت 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر• پی آئی ٹی بی نے آئی ٹی ہارڈویئر جدت اور تحقیق کے لیے تین سرکاری جامعات کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے• سلطان آف جوہر کپ: ملائیشیا نے پاکستان کو 3-2 سے شکست دے دی، پاکستانی ٹیم میچ آٹھ کھلاڑیوں کے ساتھ مکمل کرنے پر مجبور• پیٹرول 2 روپے 71 پیسے سستا ہو کر 379 روپے 31 پیسے فی لیٹر ہو گیا، ڈیزل 31 پیسے مہنگا، نئی قیمتیں آج سے نافذ•
سیاست

صدر آصف علی زرداری 22 سے 24 اکتوبر تک جرمنی کا دورہ کریں گے، تجارت اور معاشی تعاون ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا

News Cuff

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری 22 سے 24 اکتوبر تک جرمنی کا دورہ کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے تبادلوں کا حصہ ہے اور اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اور جرمنی اس سال اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل کر رہے ہیں۔

تین روزہ قیام کے دوران صدر زرداری جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ جرمنی کی سینئر قیادت اور بڑے کاروباری رہنماؤں سے بھی ان کی ملاقاتیں طے ہیں۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں میں خاص توجہ معاشی اور تجارتی تعاون پر رہے گی، کیونکہ دونوں ملک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ کسی پاکستانی صدر کا تقریباً دو دہائیوں میں جرمنی کا پہلا دورہ ہوگا۔ صدر کے ہمراہ کاروباری برادری اور سینئر حکام پر مشتمل وفد بھی ہوگا، اور برلن میں موجود پاکستانی سفیر سلمان شریف 19 اکتوبر کو اپنی اسنادِ سفارت جرمن صدر کو پیش کر چکے ہیں، جس سے دورے کی تیاریاں پہلے ہی مکمل تھیں۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک دورے کی اصل اہمیت تجارت میں ہے۔ جرمنی یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت ہے اور پاکستان کے لیے ایک اہم برآمدی منڈی بھی، اس لیے کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتوں میں سرمایہ کاری اور تجارت بڑھانے کے امکانات پر بات متوقع ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق دورہ اس گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے جو دونوں ملک اپنی شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے رکھتے ہیں۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے