جمعرات, 22 اکتوبر 2026
جمعرات, 22 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے تکنیکی تعاون پر بات چیت، ڈریپ اور قومی ادارہ صحت بھی ایجنڈے میں شامل• وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہ بیٹھنے کا عزم• گھر پر شادی والا چکن قورمہ بنانے کا طریقہ، بھنی پیاز اور دہی والی گریوی کے ساتھ مکمل ترکیب• واہگہ بارڈر پر بالی وڈ ستاروں کی فلم تشہیر کے دوران پاکستانی جانب سے عاطف اسلم کا «تاجدارِ حرم» گونج اٹھا، تقریب کی آوازیں دب گئیں• کراچی ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانے والے مسافروں کی ویکسین جانچ کی مہلت ایک ماہ بڑھا دی گئی، نفاذ 20 نومبر سے ہوگا• فورٹ عباس میں سکول سے گھر آیا دودھ پینے سے ایک ہی خاندان کے 11 افراد ہسپتال پہنچ گئے، خاندان کا تحقیقات کا مطالبہ• پی آئی اے یکم دسمبر سے اسلام آباد سے برمنگھم کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرے گی، لندن آپریشن بھی بڑھا دیا گیا• صدر آصف علی زرداری 22 سے 24 اکتوبر تک جرمنی کا دورہ کریں گے، تجارت اور معاشی تعاون ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا•
سیاست

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہ بیٹھنے کا عزم

News Cuff

پشاور: وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو گورنر ہاؤس پشاور میں قومی ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔ گورنر راج نافذ ہونے کے بعد وزیراعظم کا یہ خیبر پختونخوا کا پہلا دورہ تھا، اور تقریباً تین گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سمیت وفاقی وزرا اور صوبے کے چیف سیکرٹری اور آئی جی شریک ہوئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے شرکا کو صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور وفاق کی فراہم کردہ سہولتوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق کیا گیا اور مسلح افواج، پولیس اور عوام کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

«وفاق خیبر پختونخوا پولیس، سیف سٹیز اور سی ٹی ڈی کو جو بھی درکار ہوگا، فراہم کرے گا»
وزیراعظم نے کہا کہ وفاق صوبائی پولیس، سیف سٹیز منصوبے اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی ہر ضرورت پوری کرے گا، جبکہ اجلاس میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو اضافی سازوسامان، گاڑیاں، اسلحہ اور افرادی قوت دے کر مضبوط بنانے پر بھی اتفاق ہوا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اور سول قیادت مل کر صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کا دور واپس لائے گی، اور شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

گورنر راج کا دفاع، صدر زرداری سے دو بار مشاورت کا انکشاف
شہباز شریف نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بگڑتی سکیورٹی صورتحال نے حکومت کو مشکل فیصلے پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق ایک سیاسی کمیٹی نے حل کے لیے 48 گھنٹے کام کیا اور انہوں نے خود صدر آصف علی زرداری سے دو مرتبہ مشاورت کی، تاہم بات چیت ناکام رہی تو آئین میں دیے گئے اختیار کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ انہوں نے اتحادی شراکت داروں، خصوصاً صدر زرداری اور نواز شریف کا شکریہ بھی ادا کیا اور بتایا کہ مختلف شعبوں کے اہل اور ایماندار افراد پر مشتمل مشاورتی کونسل قائم کی جا چکی ہے۔

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ قربانیوں کے نتیجے میں 2018 تک صوبے میں مکمل امن قائم ہو چکا تھا، مگر گزشتہ چھ برس میں حالات نے وہ محنت ضائع کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار جانیں گئیں اور ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ 2010 سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو انسداد دہشت گردی کے لیے 800 ارب روپے ملے، اس کے باوجود سابق صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار آسامیاں خالی پڑی رہیں، سیف سٹی منصوبہ ادھورا رہا اور پولیس و سی ٹی ڈی کو نہ تربیت ملی نہ جدید اسلحہ۔ وزیراعظم نے صاف پانی منصوبے میں مبینہ 100 ارب اور کوہستان سکینڈل میں 37 ارب روپے کی کرپشن کا الزام بھی دہرایا۔

گورنر کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن کا قیام اور عوام کی حفاظت سب کی مشترکہ ترجیح ہے، کامیابی کا پیمانہ عوام کا اعتماد، پولیس و سی ٹی ڈی کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور دہشت گرد نیٹ ورک، اس کے سہولت کاروں اور مالی ذرائع کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام کو اب تعلیم، صحت اور روزگار کی بہتر سہولتیں ملنی چاہئیں۔

سکول کی چھت گرنے پر اظہار افسوس، گورنر کو فوری دورے کی ہدایت
وزیراعظم نے پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے استانی اور بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور گورنر فیصل کریم کنڈی کو فوری طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کرنے اور واقعے کی جامع تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے