جمعرات, 22 اکتوبر 2026
جمعرات, 22 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
پی آئی اے کے کیبن کریو کی نئی یونیفارم حسن شہریار یاسین ڈیزائن کریں گے، نئی وردی 31 اکتوبر کو لندن سے اسلام آباد کی پہلی ڈریم لائنر پرواز میں سامنے آئے گی• پیٹرول مزید 1 روپے 60 پیسے سستا ہو کر 377 روپے 71 پیسے فی لیٹر ہو گیا، ڈیزل 1 روپے 64 پیسے مہنگا، نئی قیمتیں 23 اکتوبر سے نافذ• پاک افغان تجارت کی بندش کو ایک سال ہو گیا، برآمد کنندگان کو ڈھائی ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اور مہنگے متبادل راستے• سری لنکا نے 430 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف آخری اوور میں حاصل کر لیا، بروک کی 202 رنز کی ریکارڈ اننگز بھی انگلینڈ کو شکست سے نہ بچا سکی• پاکستانی ایپس کی دنیا بھر میں 4 ارب 60 کروڑ ڈاؤن لوڈز، گوگل کا تھنک ایپس 2026 لاہور قلعے میں منعقد• پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے تکنیکی تعاون پر بات چیت، ڈریپ اور قومی ادارہ صحت بھی ایجنڈے میں شامل• وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہ بیٹھنے کا عزم• گھر پر شادی والا چکن قورمہ بنانے کا طریقہ، بھنی پیاز اور دہی والی گریوی کے ساتھ مکمل ترکیب•
مضامین

پاک افغان تجارت کی بندش کو ایک سال ہو گیا، برآمد کنندگان کو ڈھائی ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اور مہنگے متبادل راستے

News Cuff

پشاور: پاک افغان تجارت کو بند ہوئے ایک سال بیت گیا، مگر بارڈر کے دونوں طرف کھڑے ٹرکوں کی قطاریں اور خالی گودام آج بھی وہی کہانی سناتے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں سرحدی جھڑپوں کے بعد تجارت معطل ہوئی تھی؛ تاجر تنظیموں کے اندازے کے مطابق اس عرصے میں ڈھائی ارب ڈالر سے زیادہ کی تجارت ختم ہو چکی ہے۔ خیبر چیمبر کے اعداد و شمار میں اس نقصان کی تفصیل یوں ہے — برآمدات میں تقریباً ایک ارب 64 کروڑ ڈالر اور درآمدات میں 81 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی۔

ایک برآمد کنندہ کی کہانی سب کی کہانی ہے

پشاور کے برآمد کنندہ منصور الٰہی چاول، گوشت، ترش پھل اور آلو افغانستان اور وسطی ایشیا بھیجتے تھے۔ کبھی ان بازاروں سے ان کی آمدن کا 80 فیصد آتا تھا؛ آج یہ حصہ سکڑ کر 5 فیصد رہ گیا ہے۔ ان کے الفاظ میں یہ جھٹکا صرف ان کے لیے نہیں تھا، ہر اس شخص کے لیے تھا جو اس تجارت سے جڑا تھا۔ متبادل راستے موجود ہیں، مگر وہ لمبے بھی ہیں اور مہنگے بھی — اور ہر اضافی دن کا کرایہ آخرکار تاجر ہی بھگتتا ہے۔

دواسازی سب سے زیادہ متاثر

حیات آباد کی ایک دوا ساز فیکٹری میں کام آج بھی چل رہا ہے، مگر وہاں بنی تقریباً 70 فیصد ادویات افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے تھیں۔ ادویات پاکستان کی افغانستان کو سب سے بڑی برآمد ہیں، اس لیے یہ شعبہ بندش کی زد میں سب سے پہلے آیا۔ فیکٹری انتظامیہ اب ملکی منڈی میں فروخت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، مگر وہ طلب جو سرحد پار موجود تھی، اس کا نعم البدل گھر کے بازار میں آسانی سے نہیں ملتا۔ یہ فیکٹری طورخم سے صرف 60 کلومیٹر دور ہے — فاصلہ کم ہے، مگر اس وقت یہ 60 کلومیٹر دنیا کے لمبے فاصلوں میں سے ایک بن چکے ہیں۔

نقصان صرف تاجروں کا نہیں

جس ٹرک اڈے سے روزانہ 40 سے 50 ٹرک سامان لے کر نکلتے تھے، وہاں آج سناٹا ہے۔ ٹرانسپورٹر، کسٹمز ایجنٹ، مزدور اور چھوٹے دکاندار — سلسلہ جہاں جہاں تک جاتا تھا، بندش کا اثر وہاں وہاں پہنچا۔ خیبر پختونخوا کو صرف محصول کی مد میں 7 ارب 27 کروڑ روپے کا نقصان الگ ہوا۔ تاجروں کا مطالبہ سادہ ہے: تجارت کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔ ایک سال بعد سوال وہی ہے جو پہلے دن تھا — یہ راستہ کب کھلے گا؟

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے