پاک افغان تجارت کی بندش کو ایک سال ہو گیا، برآمد کنندگان کو ڈھائی ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اور مہنگے متبادل راستے

پشاور: پاک افغان تجارت کو بند ہوئے ایک سال بیت گیا، مگر بارڈر کے دونوں طرف کھڑے ٹرکوں کی قطاریں اور خالی گودام آج بھی وہی کہانی سناتے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں سرحدی جھڑپوں کے بعد تجارت معطل ہوئی تھی؛ تاجر تنظیموں کے اندازے کے مطابق اس عرصے میں ڈھائی ارب ڈالر سے زیادہ کی تجارت ختم ہو چکی ہے۔ خیبر چیمبر کے اعداد و شمار میں اس نقصان کی تفصیل یوں ہے — برآمدات میں تقریباً ایک ارب 64 کروڑ ڈالر اور درآمدات میں 81 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی۔
ایک برآمد کنندہ کی کہانی سب کی کہانی ہے
پشاور کے برآمد کنندہ منصور الٰہی چاول، گوشت، ترش پھل اور آلو افغانستان اور وسطی ایشیا بھیجتے تھے۔ کبھی ان بازاروں سے ان کی آمدن کا 80 فیصد آتا تھا؛ آج یہ حصہ سکڑ کر 5 فیصد رہ گیا ہے۔ ان کے الفاظ میں یہ جھٹکا صرف ان کے لیے نہیں تھا، ہر اس شخص کے لیے تھا جو اس تجارت سے جڑا تھا۔ متبادل راستے موجود ہیں، مگر وہ لمبے بھی ہیں اور مہنگے بھی — اور ہر اضافی دن کا کرایہ آخرکار تاجر ہی بھگتتا ہے۔
دواسازی سب سے زیادہ متاثر
حیات آباد کی ایک دوا ساز فیکٹری میں کام آج بھی چل رہا ہے، مگر وہاں بنی تقریباً 70 فیصد ادویات افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے تھیں۔ ادویات پاکستان کی افغانستان کو سب سے بڑی برآمد ہیں، اس لیے یہ شعبہ بندش کی زد میں سب سے پہلے آیا۔ فیکٹری انتظامیہ اب ملکی منڈی میں فروخت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، مگر وہ طلب جو سرحد پار موجود تھی، اس کا نعم البدل گھر کے بازار میں آسانی سے نہیں ملتا۔ یہ فیکٹری طورخم سے صرف 60 کلومیٹر دور ہے — فاصلہ کم ہے، مگر اس وقت یہ 60 کلومیٹر دنیا کے لمبے فاصلوں میں سے ایک بن چکے ہیں۔
نقصان صرف تاجروں کا نہیں
جس ٹرک اڈے سے روزانہ 40 سے 50 ٹرک سامان لے کر نکلتے تھے، وہاں آج سناٹا ہے۔ ٹرانسپورٹر، کسٹمز ایجنٹ، مزدور اور چھوٹے دکاندار — سلسلہ جہاں جہاں تک جاتا تھا، بندش کا اثر وہاں وہاں پہنچا۔ خیبر پختونخوا کو صرف محصول کی مد میں 7 ارب 27 کروڑ روپے کا نقصان الگ ہوا۔ تاجروں کا مطالبہ سادہ ہے: تجارت کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔ ایک سال بعد سوال وہی ہے جو پہلے دن تھا — یہ راستہ کب کھلے گا؟



