اختیار کی اجارہ داری: پاکستان کی بیوروکریسی ترقی کی راہ میں کیوں حائل ہے — تجزیہ

پاکستان کو چلانے والی مشینری دراصل اسے چلانے کے لیے نہیں، اس پر حکومت کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ یہ بات سننے میں تلخ لگتی ہے، لیکن تاریخ اس کی گواہ ہے: انگریز نے یہاں جو انتظامی ڈھانچہ کھڑا کیا، اس کا کام لگان اکٹھا کرنا اور علاقے پر گرفت مضبوط رکھنا تھا۔ اسکول، اسپتال یا صنعت — عوامی خدمت اس ڈیزائن کا حصہ کبھی تھی ہی نہیں۔ آزادی کے اٹھتر برس بعد آج بھی وہی ڈھانچہ، وہی سوچ اور وہی طور طریقے کاروبار سے لے کر صحت اور تعلیم تک ہر شعبے میں فیصلوں کی راہ روکے کھڑے ہیں۔
صوابدید — اصل ہتھیار
اس نظام کی اصل طاقت قانون میں نہیں، صوابدید میں ہے۔ افسر چاہے تو فائل مہینوں دبا کر رکھے، چاہے تو ایک ہی قاعدے کی دو تشریحیں کر دے، اور چاہے تو کسی پر سختی اور کسی پر نرمی برت لے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کاروباری شخص نئی مشین یا نئے ملازم پر پیسہ لگانے کے بجائے "تعلقات” اور "سفارش” پر لگاتا ہے۔ جو پرانا اور جڑا ہوا ہے، وہ وکیلوں کی فوج بھی رکھ لیتا ہے اور تاخیر بھی برداشت کر لیتا ہے؛ جو نیا ہے، وہ پہلے ہی چکر میں ہار مان لیتا ہے۔ یوں اجازت ناموں کا نظام مقابلے کو کمزور اور اندر کے لوگوں کو مضبوط کرتا چلا جاتا ہے۔
ایک امتحان، ہر شعبے کا فیصلہ
ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک ہی مقابلے کے امتحان میں کامیابی کو ہر شعبے کی اہلیت سمجھ لیا جاتا ہے۔ پبلک فنانس ہو، شہری منصوبہ بندی، نظامِ صحت یا ڈیجیٹل قوانین — مہارت تو ماہرین کے پاس ہوتی ہے، مگر آخری فیصلہ جنرلسٹ افسر کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ ایک ڈگری، سب کے فیصلے — یہی وہ خامی ہے جو پالیسی کو کاغذ سے آگے بڑھنے نہیں دیتی۔
سیاسی سمجھوتہ
اور پھر اس کھیل کا دوسرا پہلو بھی ہے: افسر کا اثر اس کے عہدے کے اختیار سے نکلتا ہے، اور سیاست دان کا فائدہ اس اختیار کے استعمال پر اثر انداز ہونے میں ہے۔ تبادلے اور تقرریاں اکثر اسی "تعاون” کا انعام ہوتی ہیں۔ اختیار بانٹنے کا یہ غیر اعلانیہ معاہدہ دونوں فریقوں کو راس آتا ہے — نقصان صرف عوام کا ہوتا ہے۔
اصلاح کا اصل امتحان
اگر اصلاح واقعی مقصود ہے تو اس کا پیمانہ نئے امتحان، نئی تربیت یا نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم نہیں ہو سکتے۔ اصل امتحان تین چیزوں کا ہے: من مانے اختیار کی حد بندی، ماہرین کے لیے جگہ، اور افسروں کو نتائج کا جواب دہ بنانا۔ جب تک فیصلہ کرنے والا نتائج کا ذمہ دار نہیں بنتا، مشینری حکمرانی کے پرانے سانچے میں ہی چلتی رہے گی — اور ترقی کی باتیں کاغذوں تک محدود رہیں گی۔



