ریلوے ایمرجنسی: پاکستان ریلوے میں 31 دسمبر تک ہنگامی اقدامات، فیلڈ افسران کی چھٹیاں منسوخ

تصویر: پاکستان ریلوے کی مسافر ٹرین (فائل فوٹو — ہنگامی اقدامات کے اعلان کی تصویر نہیں)
پاکستان ریلوے میں ہفتے کو ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، اور یہ انتظام 31 دسمبر تک برقرار رہے گا۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ہدایت پر لاہور میں محکمے کے ہیڈکوارٹر سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ٹرینوں کا محفوظ آپریشن یقینی بنانا ہے — ایسے وقت میں جب رواں سال کے دوران مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے 55 سے زیادہ حادثات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔
افسران کے لیے نئے احکامات
ایمرجنسی کے تحت فیلڈ افسران کی تمام چھٹیاں تین ماہ کے لیے منسوخ کر دی گئی ہیں۔ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اتوار کو بھی فیلڈ میں جا کر ٹرین آپریشن کی نگرانی کریں، اور دوسرے شہروں میں سرکاری کام سے جانے والے افسران سفر کے لیے ٹرین ہی استعمال کریں — تاکہ وہ مسافروں والے حالات خود دیکھ سکیں۔ سول اور مکینیکل شعبوں کے چیف انجینئرز روزانہ اپنی ذمہ داریوں کی رپورٹ وزارت کو دیں گے، اور سیفٹی کے سربراہ سے بھی روزانہ رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ وزیر ریلوے کا کہنا ہے کہ حکومت وزیر اعظم کے وژن کے مطابق مسافروں کو محفوظ ترین سفر فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
پس منظر: حادثات کی طویل فہرست
یہ فیصلہ خالی خولی نہیں — اس کے پیچھے حادثات کی ایک طویل فہرست ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں شیر شاہ کے قریب رحمان بابا ایکسپریس کے پٹری سے اترنے کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا، جس نے ریلوے کی حفاظت پر سوالات کو پھر تازہ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ حالیہ مہینوں میں خانپور، خیرپور اور کوٹری کے قریب مال بردار ٹرینوں کے پٹری سے اترنے اور خاریاں کے قریب پاکستان ایکسپریس کے حادثے کی خبریں بھی آئی ہیں۔ ریلوے ذرائع کے مطابق سکھر، کراچی اور ملتان ڈویژنوں میں حادثات کی تعداد سب سے زیادہ رہی ہے۔
پاکستان میں ہر سال لاکھوں مسافر بین الصوبائی اور طویل فاصلے کے سفر کے لیے ٹرین پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے یہ سوال اب صرف محکمے کا نہیں، عام مسافر کا ہے: کیا یہ ایمرجنسی واقعی پٹری، سگنل اور کوچز کی حالت بدلے گی، یا صرف رپورٹوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا؟ جواب اگلے ہفتوں میں فیلڈ سے آنے والی رپورٹوں اور حادثات کے اعداد سے ملے گا۔



