انقرہ میں عالمی ملٹری ڈرون مقابلے میں پاکستان نے چاندی کا تمغہ جیت لیا، کیپٹن طلحہ بھی انفرادی مقابلوں میں دوسرے نمبر پر رہے

File photo: a quadcopter drone in flight. (Photo: Sandstein / Wikimedia Commons)
انقرہ: پاکستان آرمی کی ٹیم نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ پہلے عالمی ملٹری ڈرون مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کر کے چاندی کا تمغہ جیت لیا ہے۔ بیسٹ انٹرنیشنل ملٹری ڈرون ٹیم کمپیٹیشن (بی آئی ایم ڈی ٹی سی 2026) میں 33 ملکوں کی ٹیموں نے حصہ لیا، اور فائنل ہفتے کو انقرہ کے علاقے تیملی میں ہوا، جہاں ہر ٹیم کو 23 رکاوٹوں پر مشتمل کورس سے ڈرون گزارنا تھا۔
فائنل میں میزبان ترکیہ کی پہلی ٹیم نے 41.417 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی، جب کہ پاکستان کی ٹیم نے 50.253 سیکنڈ میں کورس مکمل کر کے دوسرا نمبر حاصل کیا۔ اٹلی 50.680 سیکنڈ کے ساتھ تیسرے اور فرانس 57.142 سیکنڈ کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔ مقابلہ فرسٹ پرسن ویو (ایف پی وی) ڈرون اڑان پر مبنی تھا، جس میں پائلٹ کیمرے کی براہ راست ویڈیو دیکھ کر ڈرون کو کنٹرول کرتا ہے، اور رفتار کے ساتھ ساتھ مہارت اور درستگی کو بھی پرکھا جاتا ہے۔
### 44 سگنلز رجمنٹ کی ٹیم، کیپٹن طلحہ کا انفرادی تمغہ
پاکستان کی نمائندگی 44 سگنلز رجمنٹ کی ٹیم نے کی۔ ہر ملک زیادہ سے زیادہ تین ارکان پر مشتمل ٹیم بھیج سکتا تھا، جن میں کم از کم دو ایف پی وی پائلٹ ہونا لازم تھا۔ ٹیم مقابلے کے علاوہ انفرادی مقابلوں میں بھی پاکستان کو کامیابی ملی: کیپٹن طلحہ نے سو سے زائد بین الاقوامی پائلٹوں میں دوسری پوزیشن حاصل کر کے انفرادی چاندی کا تمغہ اپنے نام کیا۔
انعامات کی تقریب میں ترک چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائرکتار اوغلو نے میزبان ٹیم کو پہلا انعام دیا، جب کہ ترک لینڈ فورسز کے کمانڈر جنرل میتن توکیل نے پاکستان کی ٹیم کو اس کا انعام پیش کیا۔ ترک فوج کے زیر اہتمام یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقابلہ تھا، جس میں یورپ، ایشیا اور افریقہ سے فوجی پائلٹ شریک ہوئے۔
### ڈرون ٹیکنالوجی کیوں اہم ہو گئی ہے
منتظمین کے مطابق مقابلے کا مقصد فوجی پائلٹوں کی رفتار، درستگی اور مشکل حالات میں ڈرون کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو جانچنا تھا۔ جدید جنگوں میں ڈرون اب نگرانی، معلومات اکٹھی کرنے اور میدان جنگ میں تیز فیصلوں کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں، اور اسی لیے دنیا کی افواج اپنے پائلٹوں کی اس مہارت پر خاص توجہ دے رہی ہیں۔ پاکستان کی ٹیم نے سمیولیٹر مشقوں اور عملی تربیت کے ذریعے اس مقابلے کی تیاری کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 33 ملکوں میں دوسری پوزیشن اور انفرادی مقابلے میں بھی چاندی کا تمغہ پاکستان کی ڈرون ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی مہارت کی علامت ہے۔



