پنجاب میں 5,734 واٹر فلٹریشن پلانٹس جون 2027 تک مکمل کرنے کا حکم

فائل فوٹو: واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا فضائی منظر۔ یہ تصویر پنجاب کے کسی مخصوص پلانٹ کی نہیں ہے۔ (Wikimedia Commons، Bidgee)
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں 5,734 واٹر فلٹریشن پلانٹس جون 2027 تک مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صاف پینے کا پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
نگرانی اسسٹنٹ کمشنروں کے سپرد
پنجاب صاف پانی اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر علاقے کے فلٹریشن پلانٹ کی نگرانی متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کرے گا۔ ان کی سربراہی میں محلے کی سطح پر عوامی کمیٹیاں بھی بنیں گی، تاکہ پلانٹ چل رہا ہے یا بند، اس کی خبر دفتر کی فائل تک محدود نہ رہے بلکہ وہیں کے لوگوں کو معلوم ہو۔
ہر تحصیل میں موبائل مرمتی یونٹ
اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ہر تحصیل میں موبائل مینٹیننس یونٹ قائم کیا جائے گا۔ ان موبائل ورکشاپس میں پلمبر اور تکنیکی عملہ موجود ہوگا، تاکہ خراب پلانٹ کی مرمت کے لیے ہفتوں انتظار نہ کرنا پڑے اور لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی میں خلل نہ آئے۔
آخری میل تک پانی پہنچانے کا منصوبہ
وزیراعلیٰ نے چکوال، راجن پور اور راولپنڈی کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کے لیے لاسٹ مائل واٹر سپلائی منصوبہ بھی منظور کر لیا۔ اس کے تحت چکوال میں 256 کلومیٹر اور راجن پور میں 1,780 کلومیٹر کی واٹر سپلائی اسکیموں کو ترجیح دی جائے گی۔
پانی کی بوتلیں گھروں تک
اجلاس میں بتایا گیا کہ خوشاب، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان اور بہاولپور میں پانی کی بوتلوں کے چار پلانٹس روزانہ 19 لیٹر کی 10,000 بوتلیں تیار کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق بوتلوں کے اس منصوبے سے اب تک 48 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں اور 75,000 سے زیادہ بوتلیں براہ راست گھروں تک پہنچائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلی بار صاف پانی لوگوں کے گھروں تک پہنچایا جا رہا ہے، اور ترجیحی علاقوں کے بعد یہ اسکیمیں دیگر علاقوں تک بھی پھیلائی جائیں گی۔



