پیر, 26 اکتوبر 2026
پیر, 26 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
صحت

پاکستان میں صحت مند غذا کی فراہمی اپنی ہی رہنما خطوط سے پیچھے، 60 فیصد سے زیادہ لوگ صحت مند خوراک کی استطاعت نہیں رکھتے، ایف اے او

News Cuff

اسلام آباد: پاکستان میں خوراک کی کمی نہیں، توازن کی کمی ہے۔ اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت تنظیم (ایف اے او) کے جائزے کے مطابق ملک میں کیلوریز تو وافر پیدا ہو رہی ہیں، مگر وہ غذا جو ایک صحت مند زندگی کے لیے چاہیے، وہی بازار میں کم پڑ رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ 60 فیصد سے زیادہ پاکستانی ایسی خوراک کی استطاعت ہی نہیں رکھتے جو غذائی ماہرین کے معیار پر پوری اترے۔

یہ جائزہ ستمبر 2026 کی پالیسی بریف "Food Supply for Healthy Diets in Pakistan” پر مبنی ہے، جس میں 2010 سے 2023 تک ملک کی غذائی فراہمی کو قومی غذائی رہنما خطوط کے دس فوڈ گروپس سے ملا کر دیکھا گیا ہے۔ تصویر ایک جگہ نہیں، ہر جگہ ایک سی ہے: غذائیت سے بھرپور گروپس میں خلا مسلسل موجود رہا، اور بعض میں تو وقت کے ساتھ بڑھتا گیا۔

سبزیوں اور پھلوں کا خلا سب سے بڑا

سبزیوں کا معاملہ سب سے تشویشناک ہے۔ 2010 میں سبزیوں کی فراہمی کا اندازہً خلا 10.9 سے 17.8 ملین ٹن کے درمیان تھا، جو 2023 تک بڑھ کر 13.0 سے 21.6 ملین ٹن تک پہنچ گیا۔ پھلوں میں بھی یہی رجحان ہے: خلا 1.9 سے 10.3 ملین ٹن سے بڑھ کر 3.9 سے 14.3 ملین ٹن ہو گیا۔ جڑوں والی سبزیوں، آلو جیسی فصلوں اور دالوں میں بھی کمی برقرار رہی۔ دوسری طرف اناج اور چینی کی فراہمی صحت مند غذا کے لیے درکار مقدار سے زیادہ رہی، اور گوشت، مرغی و انڈوں کی فراہمی بھی 2010 کی نچلی سطح سے بڑھ کر 2023 میں تقریباً 2.5 ملین ٹن کے سرپلس تک پہنچ گئی۔ دودھ اور چکنائی والے گروپس میں بہتری ضرور آئی، مگر یہ بہتری اس بڑے خلا کو پاٹ نہیں سکی۔

یہ اعداد محض جدولوں کی بات نہیں۔ آبادی 2010 میں 18 کروڑ 93 لاکھ سے بڑھ کر 2023 میں 23 کروڑ 52 لاکھ ہو چکی ہے، اور 2050 تک تقریباً 33 کروڑ تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اگر پیداوار کا رخ نہ بدلا تو ہر سال زیادہ لوگوں کو کم غذائیت والی خوراک پر گزارا کرنا پڑے گا، اور موسمیاتی تبدیلی اس دباؤ کو مزید بڑھا دے گی۔

ایف اے او کی تجاویز کیا ہیں؟

ایف اے او کا کہنا ہے کہ زراعت اور تجارت کی پالیسیاں غذائیت کی ضرورت کے مطابق ڈھالی جائیں: سبزیوں، پھلوں، دالوں، جڑوں والی سبزیوں کی پیداوار میں سرمایہ کاری بڑھے، بعض علاقوں میں دودھ کی پیداوار کو سہارا ملے، اور فصل کٹائی کے بعد ضائع ہونے والی خوراک کم ہو۔ ساتھ ہی صارف کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں: چینی، نمک اور چکنائی سے بھرپور مشروبات و غذاؤں پر شواہد کی بنیاد پر ٹیکس، پیکٹ پر سامنے کی طرف واضح غذائی لیبل، بچوں کو نشانہ بنانے والی غیر صحت مند اشتہاربازی پر پابندی، اسکولوں میں غذائیت سے بھرپور کھانے اور کمزور گھرانوں کے لیے سماجی تحفظ کے پروگرام۔ غذائی رہنما خطوط کو بھی غذائیت، صحت اور ماحول کے نئے تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جو 2018 میں جاری کیے گئے تھے۔

خلاصہ سیدھا ہے: پاکستان کو زیادہ خوراک نہیں، بہتر خوراک چاہیے — اور وہ اس وقت تک نہیں ملے گی جب تک سبزی، پھل اور دال کسان کے کھیت سے عام آدمی کی پلیٹ تک سستی اور آسانی سے نہ پہنچے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے