اسحاق ڈار کی چینی سفیر سے ملاقات، سی پیک کے دوسرے مرحلے پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا

Gwadar port — the flagship of the China-Pakistan Economic Corridor (file photo)
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو اسلام آباد میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ سے ملاقات کی، جس میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سمیت دوطرفہ تعاون کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں ڈار نے پاکستان اور چین کے درمیان "ہر موسم کی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری” میں مسلسل پیش رفت کو سراہا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت تعاون، رابطوں، تجارت و سرمایہ کاری، زرعی جدیدکاری اور عوامی سطح پر روابط اس شراکت داری کے اہم ستون ہیں۔ ڈار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اعلیٰ سطح کے مسلسل روابط "نئے دور میں پاکستان چین مشترکہ مستقبل کی برادری” کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔
علاقائی امن کے لیے مذاکرات پر اتفاق
دونوں فریقوں نے علاقائی پیش رفت پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ناگزیر ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کا یہ حصہ دوطرفہ ایجنڈے سے آگے بڑھ کر وسیع تر علاقائی صورتحال پر محیط تھا، تاہم بیان میں کسی مخصوص تنازع یا فریق کا نام نہیں لیا گیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس کی توجہ صنعت کاری، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مبنی ترقی پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے چینی کاروباری افراد کا 22 رکنی وفد بھی اسلام آباد آیا تھا، جس نے زراعت، کان کنی، مینوفیکچرنگ اور خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس موقع پر چینی سرمایہ کاروں سے مشترکہ منصوبے بنانے اور پاکستان کو علاقائی پیداواری مرکز میں تبدیل کرنے میں مدد کی اپیل کی تھی۔
سی پیک کا پہلا مرحلہ، دوسرا مرحلہ کیا لائے گا
سرکاری اعداد کے مطابق سی پیک کے پہلے مرحلے میں تقریباً 25 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری آئی، جس سے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مکمل ہوئے۔ دوسرے مرحلے میں نجی شعبے کی شراکت داری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور اسی تناظر میں اتوار کی ملاقات کو دونوں ملکوں کے درمیان جاری رابطوں کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان اور چین اس سال سفارتی تعلقات کے 75 سال بھی منا رہے ہیں، اور دونوں جانب سے اس موقع پر تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کی ملاقات میں کسی نئے منصوبے، مالی معاہدے یا ٹائم لائن کا اعلان سامنے نہیں آیا؛ دفتر خارجہ کے بیان کی حد تک یہ ملاقات پیش رفت کا جائزہ اور تعاون کے عزم کی تجدید تک محدود رہی۔



