تائیوانی ایئرلائنز کو پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کی 27 مارچ 2027 تک اجازت

File photo: A China Airlines Boeing 777 aircraft in flight (Wikimedia Commons, by tjdarmstadt).
اسلام آباد — تائیوان کی دو بڑی ایئرلائنز، چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر، کو 28 اکتوبر 2026 سے 27 مارچ 2027 تک پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ڈان کی جانب سے دیکھی گئی دستاویزات کے مطابق دونوں کمپنیوں کو اس مدت کے لیے پروازوں کی اجازت ملی ہے، اور یہ خبر اسی دن سامنے آئی ہے جب صبح سے تائیوانی طیاروں پر پابندی کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔
ایک دن میں دو مختلف خبریں
دن کا آغاز ایک بالکل مختلف خبر سے ہوا تھا۔ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان نے بیجنگ کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں تائیوانی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، اور یہ اقدام کسی بھی ملک کی جانب سے اپنی نوعیت کا پہلا قدم قرار دیا گیا تھا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایوی ایشن ڈویژن ون چائنا پالیسی پر عمل کرتا ہے اور صرف مین لینڈ چین کی ایئرلائنز کو اجازت ہے۔ بعد میں ڈان نے اپنی خبر کو تازہ معلومات کی روشنی میں اپ ڈیٹ کیا اور اجازت کی دستاویزات کا حوالہ دیا۔ اس تبدیلی کی کوئی تفصیلی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
راستے کیوں بدلے گئے تھے
فلائٹ ٹریکنگ کے اعداد کے مطابق چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر کے طیارے 25 اکتوبر کی صبح سے پاکستانی فضائی حدود سے نہیں گزر رہے تھے، اور اتوار سے اب تک ایشیا اور یورپ کے درمیان کم از کم ایک درجن پروازوں نے روس کی فضائی حدود کا راستہ اختیار کیا۔ دونوں ایئرلائنز نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ تائیوان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے راستوں کی تبدیلی پر بھی خاموشی اختیار کی، البتہ اس نے یہ ضرور کہا کہ اس نے کبھی اپنے طیاروں کو روس کی فضائی حدود سے منع نہیں کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تائیوانی ایئرلائنز فروری 2022 سے ہی روس کی فضائی حدود سے گریز کر رہی تھیں، اگرچہ اس پر کوئی باضابطہ پابندی نہیں تھی۔
اس فیصلے کا پس منظر کیا ہے
پاکستان نے 1951 میں تائیوان سے سرکاری تعلقات منقطع کر دیے تھے اور تب سے بیجنگ کے موقف کی حمایت کرتا آیا ہے، جس میں عالمی اداروں میں تائیوان کی شرکت کی مخالفت بھی شامل ہے۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کنندہ ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں ایک نکتہ توجہ طلب ہے: خود چین اپنی فضائی حدود میں تائیوانی ایئرلائنز کو پرواز کی اجازت دیتا ہے، اس لیے دن میں سامنے آنے والی پابندی کی خبر بیجنگ کے اپنے رویے سے بھی سخت تھی۔ اب اجازت کی دستاویزات نے ایئرلائنز اور مسافروں کے لیے اگلے پانچ ماہ کا راستہ واضح کر دیا ہے، لیکن یہ سوال ابھی باقی ہے کہ پابندی کی خبر اور اجازت کے درمیان اتنی جلدی کیا بدلا۔



