پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، کے ایس ای 100 انڈیکس 1269 پوائنٹس بڑھ کر 165736 پر بند

File photo of a stock exchange bull (Wikimedia Commons).
کراچی — پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا سلسلہ برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1269.55 پوائنٹس، یعنی 0.77 فیصد، اضافے کے بعد 165736.76 پوائنٹس پر بند ہوا۔ گزشتہ کاروباری روز انڈیکس 164467.20 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، اور آج کی خریداری نے اسے ایک بار پھر اوپر کی جانب دھکیل دیا۔
دن بھر اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت اختتام
کاروبار کے دوران انڈیکس 166100.34 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک بھی گیا اور 164355.83 پوائنٹس کی کم ترین سطح بھی دیکھی، یعنی دن کی رینج تقریباً 1745 پوائنٹس رہی۔ صبح کے وقت کچھ محتاط رویہ نظر آیا، مگر دوپہر کے بعد خریداروں نے دوبارہ گرفت مضبوط کر لی اور انڈیکس مثبت زون میں ہی بند ہوا۔ علاقائی کشیدگی کی خبروں کے باوجود مارکیٹ میں خریداری کا رجحان غالب رہا، جسے بروکرز سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
خریداری کہاں ہوئی، دباؤ کہاں رہا
ریڈی مارکیٹ میں مجموعی طور پر 578.12 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا، جو گزشتہ روز کے 401.97 ملین شیئرز سے واضح طور پر زیادہ تھا۔ کاروبار کی مالیت بھی 18.07 ارب روپے سے بڑھ کر 26.20 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ مارکیٹ کی مجموعی مالیت 18.215 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 18.329 ٹریلین روپے ہو گئی۔ مجموعی طور پر 496 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 269 کی قیمتیں بڑھیں، 180 کی گریں اور 47 میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ حجم کے لحاظ سے پرویز احمد کمپنی 58.32 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہی، اس کے بعد ٹی پی ایل پراپرٹیز کے 38.35 ملین اور سینرجیکو پی کے کے 34.76 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔ سب سے زیادہ فائدہ گندھارا انڈسٹریز کو ہوا، جس کا شیئر 106.12 روپے بڑھ کر 1167.28 روپے پر بند ہوا، جبکہ رفحان میز پراڈکٹس 70.86 روپے اضافے سے 8408.05 روپے پر پہنچ گیا۔ دوسری جانب پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی 448.49 روپے گر کر 13551.50 روپے اور خیرپور شوگر ملز 125.98 روپے کمی سے 1133.86 روپے پر بند ہوئی۔
مارکیٹ کا موڈ اب کیا کہتا ہے
آج کا سیشن ایک لحاظ سے دو کہانیاں سناتا ہے: انڈیکس کی سطح پر واضح تیزی، اور کمپنیوں کی سطح پر ملا جلا رجحان۔ اتنی بڑی تعداد میں شیئرز کی خرید و فروخت یہ بتاتی ہے کہ سرمایہ کار محض دیکھ نہیں رہے، وہ حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم 180 کمپنیوں کی گراوٹ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہر شیئر ایک ہی سمت میں نہیں چل رہا۔ چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے سبق وہی پرانا ہے: انڈیکس کی خبر پر فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی کمپنی کی صورتحال ضرور دیکھ لیں۔


