منگل, 27 اکتوبر 2026
منگل, 27 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
کاروبار

قومی اسمبلی میں ایل پی جی بحران پر بحث — وزیر پٹرولیم نے ایران بارڈر کی بندش کو مہنگائی کی بڑی وجہ قرار دیا، سمندری راستے سے درآمد کا اعلان

News Cuff

ایوان میں پیش: پیر 26 اکتوبر کو قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث

وزیر پٹرولیم کا موقف: ایران بارڈر کی بندش قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ، سمندری راستے سے ایل پی جی لانے کی کوشش جاری

سرکاری نرخ: اوگرا کا مقررہ نرخ 280 روپے فی کلو، دور دراز علاقوں میں بازار میں 700 سے 800 روپے فی کلو تک فروخت کی شکایت

اسلام آباد میں پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وہ سوال پھر ایوان کے سامنے آیا جو پچھلے کئی دن سے ہر گھر کے باورچی خانے تک پہنچ چکا ہے: ایل پی جی اتنی مہنگی کیوں ہو گئی ہے اور سرکاری نرخ پر کیوں نہیں مل رہی۔ ارکان نے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے معاملہ اٹھایا تو وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان ایران بارڈر کی بندش قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے اور حکومت اب سمندری راستے سے ایندھن لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ نوٹس عالیہ کامران، شاہدہ بیگم اور نعیمہ کشور خان نے مشترکہ طور پر پیش کیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عوام کے لیے سنگین تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ عالیہ کامران نے ایوان میں بتایا کہ دور دراز اور شمالی علاقوں میں ایل پی جی 700 سے 800 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کا مقررہ نرخ 280 روپے فی کلو ہے۔ نعیمہ کشور نے سوال اٹھایا کہ ایران کے ساتھ تجارت کیوں معطل کی گئی ہے۔

وزیر پٹرولیم کا موقف

وزیر پٹرولیم کے مطابق پاکستان کی ایل پی جی کا 50 سے 60 فیصد ایران سے آتا تھا اور باقی ضرورت قطر سے پوری ہوتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران جنگ کے باعث قطر سے ایل این جی کی سپلائی معطل ہو گئی ہے۔ انہوں نے سعودی آرامکو کے نرخوں کا حوالہ بھی دیا جو 705 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئے ہیں۔ ان کے بقول حکومت پورے نظام پر نظرثانی کر رہی ہے اور بیرونی ذرائع سے گیس حاصل کرنے کی پالیسی پر کام ہو رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق وزیر نے یہ بھی بتایا کہ ایک سے دو دن میں ایل پی جی سے متعلق نئی پالیسی سامنے آ سکتی ہے جس میں کمزور گھرانوں کو سبسڈی والا ایندھن دینے کا انتظام ہو گا، جبکہ مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھی جائے گی۔ وزیر اعظم نے بھی ایل پی جی کی قیمتوں پر دو سے تین اجلاس کیے ہیں۔ یہ اعلان اس لیے اہم ہے کہ اب تک بازار میں سرکاری نرخ عملی طور پر کہیں نظر نہیں آ رہا تھا، حتیٰ کہ وزیر نے خود تسلیم کیا کہ سپلائی وافر ہونے کے باوجود بھی ایل پی جی سرکاری نرخ پر فروخت نہیں ہوتی۔

سردیوں سے پہلے دباؤ کیوں بڑھ گیا

ایل پی جی ان علاقوں کی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے جہاں پائپ لائن گیس نہیں پہنچتی۔ سردیوں میں اس کی کھپت ویسے ہی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں جب ایران سے سپلائی رکی اور قطر سے ایل این جی کی آمد بھی متاثر ہوئی تو بازار میں قلت اور مہنگائی دونوں نے زور پکڑ لیا۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی ایل پی جی 700 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

وزیر نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت اوگرا اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مصنوعی قلت اور زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ مقامی گیس گھریلو صارفین کو ناشتے اور کھانے کے اوقات میں آٹھ گھنٹے فراہم کی جا رہی ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ سمندری راستے سے آنے والی سپلائی اور نئی پالیسی بازار کے نرخ کو کتنی جلدی سرکاری نرخ کے قریب لاتی ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے