منگل, 27 اکتوبر 2026
منگل, 27 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
سیاست

یوم سیاہ کشمیر: صدر اور وزیراعظم کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ناممکن

News Cuff

فائل فوٹو: سری نگر کی ڈل جھیل — Wikimedia Commons. Source: Wikimedia Commons File:View of Dal lake.jpg, Harvinder Chandigarh, CC BY-SA.

پیغامات: صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے یوم سیاہ کشمیر پر الگ الگ پیغامات

موقع: 27 اکتوبر — سری نگر میں بھارتی فوج کے اترنے کو 79 برس مکمل

موقف: کشمیر کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق

اسلام آباد سے منگل کو یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر آنے والے پیغامات میں ایک ہی بات دو آوازوں میں دہرائی گئی: پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے، اور کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رہے گی۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح، مستقل اور اصولی ہے۔ ان کے الفاظ میں، جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور پُرامن حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نہ ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ یوم سیاہ کشمیر پر حکومت اور عوام مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔

79 برس پرانا زخم

شہباز شریف نے یاد دلایا کہ 79 برس قبل آج ہی کے دن بھارتی افواج سری نگر میں اتری تھیں، اور وہیں سے جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک المناک باب شروع ہوا جس کا سایہ آج تک قائم ہے۔ تب سے کشمیری عوام کو حق خودارادیت سے محروم رکھا گیا ہے، حالانکہ یہ حق سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بے پناہ مشکلات، مصائب اور جبر برداشت کیا ہے، مگر اپنے بنیادی حقوق کے حصول کا عزم آج بھی کم نہیں ہوا۔

قید رہنماؤں اور 5 اگست 2019 کے اقدامات پر تشویش

وزیراعظم نے کشمیری سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کی طویل قید پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس صورت حال میں قانونی تقاضوں کی پاسداری، بنیادی آزادیوں کا احترام اور عالمی توجہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات نے مقبوضہ علاقے کی سیاسی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو متاثر کیا ہے، اور ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

صدر کا پیغام: آواز ہر فورم پر اٹھائی جائے گی

صدر زرداری نے کشمیری عوام کی قربانیوں اور ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر مناسب بین الاقوامی فورم پر ان کی آواز اٹھاتا رہے گا۔ انہوں نے بھی 5 اگست 2019 کے بعد کی صورت حال کا ذکر کیا اور کہا کہ ان اقدامات سے جموں و کشمیر کی آئینی و قانونی حیثیت بدلنے کی کوشش کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے کشمیری مردوں، خواتین اور بچوں کی قربانیوں کو یاد کیا اور کہا کہ انصاف، وقار اور آزادی کی جدوجہد میں پاکستان ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے