حارث رؤف کو آئی سی سی کی سزا: میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ اور ایک ڈی میرٹ پوائنٹ

file photograph of Haris Rauf (Wikimedia Commons, public domain, by Dave Morton).
لاہور — انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کے فاسٹ بولر حارث رؤف پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ اتوار کو لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ون ڈے میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر انہیں سرکاری طور پر تنبیہ بھی کی گئی ہے اور ان کے ڈسپلن ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کو آئی سی سی کی جانب سے سامنے آیا، اور اس کے ساتھ ہی رؤف ایک اور معطلی کے خطرے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
46 ویں اوور میں کیا ہوا تھا
واقعہ پاکستان کی اننگز کے اختتام کے قریب پیش آیا۔ 46 ویں اوور کے ختم ہونے پر نان اسٹرائیکر اینڈ پر موجود رؤف نے وائیڈ کی اپیل کی، جس کے بعد انگلینڈ کے آل راؤنڈر ول جیکس سے ان کی تلخ کلامی ہو گئی۔ آئی سی سی کے مطابق رؤف نے اس دوران اپنا بیٹ بلند کیا اور امپائر شرف الدولہ ابن شاہد کی وارننگ کے باوجود بحث جاری رکھی، پھر جیکس کی جانب بڑھتے ہوئے امپائر کے قریب سے گزرے۔ یہ طرز عمل ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.2 کی خلاف ورزی قرار پایا، جو کھیل کی روح کے منافی رویے سے متعلق ہے۔
پانچ ڈی میرٹ پوائنٹس کا مطلب کیا ہے
یہ 24 ماہ کے دوران رؤف کی تیسری خلاف ورزی ہے، اور اس ایک پوائنٹ کے ساتھ ان کے ڈی میرٹ پوائنٹس کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ آئی سی سی کے قواعد کے تحت 24 ماہ میں چار یا اس سے زیادہ ڈی میرٹ پوائنٹس دو سسپنشن پوائنٹس میں بدل جاتے ہیں، یعنی ایک ٹیسٹ، دو ون ڈے یا دو ٹی ٹوئنٹی میچز کی پابندی۔ گزشتہ سال بھی رؤف ایشیا کپ میں خلاف ورزیوں کے بعد دو ون ڈے میچز کی معطلی بھگت چکے ہیں، اس لیے اب ان کے لیے احتیاط پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔
انگلینڈ پر بھی جرمانہ
اسی میچ میں انگلینڈ کی ٹیم پر بھی جرمانہ عائد ہوا ہے۔ مہمان ٹیم مقررہ وقت میں تین اوور پیچھے رہی، جس پر اس کے کھلاڑیوں کی میچ فیس کا 15 فیصد کاٹا گیا ہے۔ ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.22 کے تحت ہر اوور کی کمی پر پانچ فیصد جرمانہ بنتا ہے۔ میچ ریفری جیف کرو نے دونوں سزائیں تجویز کیں، اور حارث رؤف اور انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے انہیں تسلیم کر لیا، اس لیے باقاعدہ سماعت کی ضرورت نہیں پڑی۔
وہ میچ جو یادگار بن گیا تھا
سزا کا اعلان اس میچ کے بعد آیا ہے جسے شائقین مدتوں یاد رکھیں گے۔ پاکستان نے انگلینڈ کے 242 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ایک موقع پر 154 رنز پر نو وکٹیں گنوا دی تھیں، مگر شاداب خان کی ناقابل شکست 113 رنز کی اننگز اور رؤف کے ساتھ آخری وکٹ پر 89 رنز کی شراکت نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ پاکستان ایک وکٹ سے جیت گیا، اور رؤف نے جیتنے والا رن بھی بنایا تھا۔ اب وہی میچ ان کے لیے ایک تلخ یاد بھی چھوڑ گیا ہے — میدان پر چند لمحوں کا غصہ، جس کی قیمت اب ان کے ڈسپلن ریکارڈ پر درج ہو گئی ہے۔


