جمعرات, 29 اکتوبر 2026
جمعرات, 29 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
سیاست

پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں سہیل آفریدی سمیت پانچ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

News Cuff

File photo of Peshawar, the city where the court sits.

پشاور — انسداد دہشت گردی عدالت نے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پانچ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ کیس 9 مئی 2023 کے ان پرتشدد واقعات سے جڑا ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے بعد پشاور میں پیش آئے تھے، اور اس دوران ریڈیو پاکستان کی عمارت کو نقصان پہنچایا گیا تھا، اس کے کچھ حصوں کو آگ بھی لگائی گئی تھی۔

عدالت میں کیا ہوا

بدھ 28 اکتوبر کو جج ولی محمد خان کی عدالت میں سرکاری وکیل نے پولیس کا چالان پیش کیا، جس میں پانچوں افراد کو ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ چالان داخل ہو چکا ہے اور ملزمان نامزد ہو چکے ہیں، اس لیے قانون کے مطابق وارنٹ جاری کرنا بنتا ہے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 4 نومبر مقرر کر دی ہے۔

پانچ ملزمان کون ہیں

وارنٹ جن افراد کے لیے جاری ہوئے ہیں، ان میں سہیل آفریدی کے ساتھ سابق صوبائی وزرا کامران بنگش اور تیمور سلیم جھگڑا، پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم اور پارٹی کارکن عامر خان چمکنی شامل ہیں۔ استغاثہ کے مطابق یہ پانچوں ابتدائی ایف آئی آر یا پہلے چالان میں نامزد نہیں تھے؛ ان کا نام بعد میں سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر شامل کیا گیا۔

فرانزک رپورٹس کا کردار

عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق ریڈیو پاکستان پشاور کے اسٹیشن ڈائریکٹر طفیل احمد نے فرانزک نتائج کی روشنی میں ضمنی بیان ریکارڈ کرایا، جس میں پانچوں افراد کو ملزم قرار دیا گیا۔ ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گگیانی کی درخواست پر 12 دسمبر 2025 کو فرانزک معائنہ کا حکم ہوا تھا، جس کے بعد پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا نے ویڈیو فوٹیج اور تصاویر کا جائزہ لیا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس جائزے سے ملزمان کی جائے وقوعہ پر موجودگی کا اشارہ ملتا ہے۔

دفاع کا موقف

دوسری طرف پی ٹی آئی رہنماؤں نے فوٹیج کی صداقت پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ دکھائی گئی کلپس 10 مئی 2023 کے واقعے کی نہیں ہیں۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ جنوری میں 16 ویڈیو کلپس کے فرانزک جائزے میں کچھ کلپس میں ترمیم یا جوڑ توڑ کے آثار بھی نوٹ کیے گئے تھے، اس لیے شواہد کا محتاط جائزہ ضروری ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ وارنٹ کا اجرا عدالتی کارروائی کا ایک مرحلہ ہے، اس سے کسی ملزم کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔

پس منظر

اسی دوران سہیل آفریدی کی مبینہ غیر قانونی حراست یا جبری گمشدگی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی زیر التوا ہے، جس کا اس کیس کی سماعت سے الگ معاملہ ہے۔ ریڈیو پاکستان کیس میں اب آئندہ سماعت پر ملزمان کی پیشی اور مزید کارروائی کا رخ واضح ہو گا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے