قومی اسمبلی کو بتایا گیا: نو ماہ میں 5,143 آپریشنز، 2,410 دہشت گرد ہلاک، 3,518 گرفتار

Photo: Parliament House, Islamabad (file photo — not a picture of Wednesday's session).
اسلام آباد: وزارت داخلہ نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ رواں سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف 5,143 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 2,410 دہشت گرد ہلاک، 806 زخمی اور 3,518 گرفتار ہوئے۔ یہ اعداد و شمار وزیر داخلہ محسن نقوی کے تحریری جواب میں پیش کیے گئے، جو بدھ کو وقفہ سوالات کے دوران ایوان میں رکھا گیا۔
آپریشنز کے اعداد و شمار
وزارت کے مطابق یہ کارروائیاں یکم جنوری سے 29 ستمبر 2026 تک نیشنل ایکشن پلان کے تحت کی گئیں۔ نیشنل ایکشن پلان 2014 میں شروع ہوا تھا اور 2021 میں اس پر نظرثانی کی گئی تھی، جس میں اب 14 نکات اور 245 اقدامات شامل ہیں۔ وزارت نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی اس نے ان کمزوریوں کا بھی اعتراف کیا جو غیر عسکری محاذ پر موجود ہیں۔
شناختی کارڈز کی منسوخی
اسی جواب میں ایوان کو یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برس میں افغان شہریوں کے 3,26,341 شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے، جو دھوکا دہی اور جعل سازی سے حاصل کیے گئے تھے۔ ان میں سے 2,55,139 کارڈ صرف رواں سال 2026 میں منسوخ ہوئے، جبکہ 2025 میں 62,414، 2024 میں 8,609، 2023 میں 117 اور 2022 میں 62 کارڈ منسوخ کیے گئے تھے۔
آن لائن انتہا پسندی پر کمزور عملدرآمد
وزارت نے تسلیم کیا کہ آن لائن انتہا پسند مواد روکنے کی کوششوں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواستوں پر سوشل میڈیا کمپنیوں نے صرف 23.7 فیصد اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹس کی درخواستوں پر 47 فیصد عمل کیا۔ پلیٹ فارم کے لحاظ سے ایکس نے 7.4 فیصد، یوٹیوب نے 1.9 فیصد اور فیس بک نے 38 فیصد مواد ہٹایا۔ وزارت کے مطابق وفاقی اور صوبائی اداروں کے پاس آن لائن خطرات سے نمٹنے کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں، اور تربیت یافتہ تجزیہ کاروں کی کمی کے باعث چوبیس گھنٹے نگرانی ممکن نہیں ہو پا رہی۔
نیکٹا کے مالی مسائل
جواب میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی مالی مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا۔ اتھارٹی نے مالی سال 2026-27 کے لیے 2.98 ارب روپے سے زائد مانگے تھے، مگر اسے 1.33 ارب روپے ملے۔ وزارت نے بتایا کہ نیکٹا کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم ڈویژن میں تبدیل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔



